روزہ دو قسم کا ہوتا ہے

روزہ کے بارے میں مولانا ابوالحسن ندوی صاحب نے فرمایا کہ
روزہ دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک سحر سے مغرب تک رکھا جاتا ہے۔ اس کی کچھ پابندیاں ہوتی ہیں جن کا بہت خیال رکھا جاتا ہے کہ روزہ مکروہ نہ ہو جاۓ ، ٹوٹ نہ جاۓ۔ یہ روزہ مغرب کے وقت افطار کیا جاتا ہے اور پورا ماہ روزہ رکھ کر عید منائ جاتی ہے۔
دوسرا روزہ شعور بیدار ہونے سے لے کر زندگی کے آخری دم تک کا ہے۔ اس کی بھی پابندیاں ہیں جن کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے۔ یہ روزہ اِس دنیا میں نہیں اگلے جہاں حوضِ کوثر پر افطار کیا جاۓ گا اور عید جنت میں منائ جاۓ گی۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s