دنیا میں آنے والے انسان – چمن کے کانٹے یا پھول؟

               مولانا سید ابو الحسن علی ندوی

 

ٹاؤن ہال،مراد آباد میں انصاف کونسل کے زیر انتظام۳ ؍دسمبر ۱۹۷۸؁ء کو منعقد جلسہ میں کی گئی تقریر، ہال سامعین سے کھچاکھچ بھرا تھا، سامعین میں بڑی تعداد غیر مسلم برادرانِ وطن کی تھی، شہر کے مدارس اسلامیہ کے اساتذہ و طلبا، وکلاء، ڈاکٹر، تجار بڑی تعداد میں شریک ہوئے، یہ تقریر ان دنوں ہوئی جب علی گڑھ میں فسادات ہو رہے تھے اور اطراف میں کشیدگی تھی۔

بشکریہ:

http://www.abulhasanalinadwi.org

 

نئے مہمانوں کی آمد

            دنیا میں انسانوں کی آمد کا سلسلہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں سال سے جاری ہے، اور کوئی دن نہیں کہ دنیا کی تاریخ میں نئے مہمان نہ آتے ہوں ، صرف آج کا دن اور صرف ہمارا اور آپ کا یہ شہر مراد آباد جس میں ہم سب جمع ہیں ، اگر آپ ٹوہ لگائیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ شہر کی آبادی میں آج بھی اضافہ ہوا ہے، یہ شہنائیاں جو بج رہی ہیں ، (ایک قافلہ اس وقت شہنائیاں بجاتا سڑک سے گزر رہا تھا) یہ لوگ جو اپنی خوشی کا اظہار کر رہے ہیں ، یہ سب علامتیں ہیں اس بات کی کہ دنیا کی رونق ابھی قائم ہے، دلوں میں اُمنگیں ہیں ، اور انسان اس دنیا میں ہنسی خوشی رہنا چاہتا ہے۔

            جو بچہ بھی اس دنیا میں آتا ہے، جو نیا مہمان بھی ہماری آپ کی اس محفل میں داخل ہوتا ہے، وہ اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ اس دنیا کا پیدا کرنے والا خدا انسان سے ابھی روٹھا نہیں ہے، انسان پر سے اس کا اعتماد اور بھروسا ابھی اٹھا نہیں ہے، وہ انسان سے مایوس نہیں ہوا، اگرایسا ہوتا تو خدا کے لیے کوئی مشکل نہیں ہے، وہی بھیجتا ہے، وہی بھیجنا بند کر دیتا، ہم نے آپ نے جلسہ کیا ہے، ایک چھوٹی سے کوشش ، جو آرہے ہیں ، ان کو آنے دے رہے ہیں ، ہم ان کو آدمی سمجھتے ہیں ، انھیں کے لیے ہم نے یہ محفل سجائی ہے، آپ کا یہ ہال تنگ پڑ رہا ہے، یہ اس بات کی علامت ہے کہ بلانے والے بھی خوش ہیں اور آنے والے بھی خوش ہیں ، آنے والے شوق سے آرہے ہیں ، اور بلانے والے ان کو جگہ دے رہے ہیں ، اگر بس چلے تو آنکھوں میں جگہ دیں ۔

            خدا انسانوں کو دنیا میں مجبوری سے نہیں بھیج رہا ہے، ہم نے خود اپنے مہمانوں کو مجبوری سے جگہ نہیں دی ہے، شوق سے جگہ دی ہے، شہر میں اعلان کیا، کارڈ تقسیم کیے، ہم نے خود بلایا ہے، یہ بن بلائے نہیں آئے، جب یہ ہمارے بن بلائے نہیں آئے تو خدا کی مخلوق دنیا میں بن بلائے کیسے آسکتی ہے؟

خدا نسل انسانی سے مایوس نہیں

            تو جو بچہ بھی اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے، وہ چاہے کسی براعظم میں پیدا ہو، ہندوستان میں پیدا ہو، یورپ و امریکہ میں ، مشرق وسطی میں پیدا ہو، یا مشرق بعید میں ، وہ اس بات کا اعلان کرتا ہے (اور ایسا صاف اور ایسے پیارے طریقے پر اعلان کرتا ہے کہ ہر شخص سمجھ سکتا ہے) کہ ابھی اس سنسار کا پیدا کرنے والا انسانوں سے مایوس نہیں ہے، وہ ان کو بسانا چاہتا ہے، وہ ان کی مدد کرتا ہے، خود ہماری پیٹھ پر ،ہماری کمر پر اس کا ہاتھ ہے، اگر اس کا ہاتھ نہ ہوتا تو کتنے پھول بے کھلے مرجھا جاتے، لیکن یہاں کا اتنا لمبا سفر کر کے جو مہمان یہاں آ رہا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ خدااس دنیا سے ابھی مایوس نہیں ہے، اگر خدا اس دنیا سے ناراض ہو جائے تو اس کو ابھی توڑ پھوڑ کے رکھ سکتا ہے، کتنی لڑائیاں ہوئیں ، انسانوں نے اس دنیا کو تباہ کرنے کی کتنی کوشش کی، لیکن کامیاب نہ ہوئے۔

            یہ جو دو عالمی جنگیں (First and Second World Wars) ہوئیں ، اس لڑائی کی آگ بھڑکانے والوں نے اپنی پوری ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا کہ یہ دنیا ختم ہو جائے، لیکن دنیا پھر بھی قائم ہے اور اس کی رونق باقی ہے۔

نوشتۂ دیوار

            اگر خدا کا ہاتھ اس دنیا کی پیٹھ پر نہ ہوتا، انسانوں کے سر پر نہ ہوتا، خدا کی حفاظت نہ ہوتی، خدا ابھی اس دنیا سے خوش نہ ہوتا اور انسان اس کو پیارا نہ ہوتا ، تو یہ جو یورپ و امریکہ کے جادوگر جو ہماری قسمت کے مالک بنے بیٹھے ہوئے ہیں ، یہ کب کا اس سنسار کو ختم کر چکے ہوتے، مگر ان کی اتنی منظم سائنٹفک آرگنائزڈ کوششوں کے باوجود جس کی پشت پر سائنس تھا، ٹکنالوجی تھی، اور اب ایٹامک انرجی بھی آ گئی ہے، اس کے باوجود یہ اس سنسار کو تباہ کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ یہ دیوار کا نوشتہ ہے کہ خدا اس دنیا سے مایوس نہیں ہے، ابھی خدا اس دنیا سے مایوس نہیں ہوا کہ یہ فرش جو بچھایا گیا ہے، یہ شامیانہ جو لگایا گیا ہے، اسے تہہ کر کے رکھ دے، ورنہ ایک منٹ نہیں ، سکنڈ نہیں ، سکنڈ کے بھی ہزارویں حصے میں اس دنیا کو ختم کرسکتا ہے، ہم کو قرآن میں بتایا گیا ہے: {إِنَّمَآ أَمْرُہٗ إِذَآ أَرَادَ شَیْئًا أَنْ یَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ} (سورۃ یس:۸۲) کہ اس کے ارادے کی دیر ہوتی ہے، اس نے ارادہ کیا اور کام ہوا، ارے بھائی ہم ٹیلیفون کرتے ہیں ، اٹھایا ریسیور، نمبر ملایا، فوراً بات ہو گئی، تو خدا کو کیا دیر لگ سکتی ہے؟

            کیا آپ خدا کا منشا نہیں سمجھتے؟ خدا کو ابھی دنیا باقی رکھنا ہے، مگر ہمارا آپ کا طرز عمل کیا ثابت کرتا ہے؟ خدا بھلے اس دنیا سے خوش ہو اور پیار کرے، مگر ہم اس دنیا سے خوش نہیں ، خدا تو مہمان پر مہمان بھیجے، اور جب مہمان آتا ہے تو اپنی روزی لے کر آتا ہے، یہ تو ہماری نالائقی ہے کہ اس کو وقت پر کھانا نہ ملے، پیٹ بھر غذا نہ ملے، باقی خدا جو مہمان بھیجے گا اس کی روزی بھی بھیجے گا، مگر ہم کیا ثابت کر رہے ہیں ؟ ہم یہ ثابت کر رہے ہیں کہ انسان سے بڑھ کر کوئی چیز قابل نفرت نہیں ہے

            راوڑ کیلا، جمشید پور، علی گڑھ جہاں جہاں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ہیں ، وہاں کے ان شریف آدمیوں نے کتنے سانپ بچھو مارے ہوں گے، اگر اس کا کوئی دفتر ہوتا تو میں وہاں جا کر پوچھتا، اس کے اعداد و شمار دیکھتا کہ بھائی ہر شخص بتائے کہ اس نے کتنے بچھو مارے، کتنے سانپ مارے، کتنے بھیڑیے، چیتے اور شیر مارے؟ ان میں بعض لوگوں کی زندگی گزر جاتی ہے، اور موذی جانور مارنے کی توفیق نہیں ہوتی، مگر انسان انسان کو کس طرح مارتا ہے؟ دیکھیے خدا اور انسان کے کام میں ایک ٹکراؤ اور تضاد ہے، خدا چاہتا ہے یہ دنیا پنپے، پھلے پھولے، سرسبز و شاداب ہو، با رونق ہو، یہاں اس کی رحمت کی، محبت کی ہوائیں چلیں ، یہاں محبت کی اور پریم کی بانسری بجے، یہاں محبت کی خوشبو پھیلے، وہ دیکھ کر خوش ہوتا ہے، میں خوش ہو رہا ہوں یہ صورتیں دیکھ کر، کس طرح اپنا دل دکھاؤں کہ کتنا خوش ہو رہا ہوں ، تو خدا کیا جو اس دنیا کا باغبان ہے، پالنہار ہے، انسان کو بنانے والا ہے، خوش نہیں ہوتا؟ اپنی بنائی ہوئی چیز پر سب خوش ہوتے ہیں ۔

نگاہوں کا جادو

            مراد آباد والوں کو اگر اپنے برتنوں پر ناز ہے تو خدا کو اپنی بنائی ہوئی چیز پر ناز نہیں ہو گا؟ مراد آباد کا رہنے والا جب کہیں جاتا ہے، تو کہتا ہے: میں اس جگہ کا رہنے والا ہوں جہاں سے بہترین برتن کہیں نہیں بنتے، ٹھیک ہے، ہم بھی مانتے ہیں ، ہمیں آپ کا یہ دعوی تسلیم ہے، مگر کیا ہم اور آپ کو ناز کرنے کا حق ہے؟ برتن بنا لیا تو اس پر خوش، ایک مشین بنا لی تو اس پر خوش، ایک کپڑا سی لیا تو اس پر خوش، اور خدا نے یہ گلدستہ بنایا، یہ چمن کھلایا، انسان کو پیدا کیا، جس کی وجہ سے ہر چیز میں قیمت پیدا ہوئی، اسے اپنی پیدا کی ہوئی چیز پر خوش ہونے کا حق نہیں ؟

            کہاں کا سونا، کہاں کی چاندی، کہاں کا مراد آباد کا برتن اور کہاں کا امریکہ کا کمپیوٹر، اور کہا ں کی مشنری، سب ہماری اور آپ کی نگاہوں کا جادو ہے، ہم نے آپ نے سونے کو دیکھا قدر کی نگاہ سے، سونا ہو گیا، اگر ہم اور آپ آج کوئی انٹرنیشنل کنونشن (International Convention)کر لیں یا ہم کہیں طے لیں کہ ہمیں سونے سے کوئی مطلب نہیں ، سونا ہمیں پسند نہیں ، تو سونااور مٹی برابر ہو جائے، سونا خود کوئی چیز نہیں ، نگاہوں کا کھیل ہے، آپ کی نگاہیں دھات پر پڑیں تو سونا بنا دیا، آپ کی نگاہیں ٹوٹ جانے والے شیشے پر پڑیں تو وہ ایسا ہوا کہ اس کو دل کی طرح عزیز رکھنے لگے، کوئی توڑ نہیں سکتا، پھول اور کانٹے میں فرق کیا ہے؟ آپ نے پھول کہا تو پھول ہو گیا، آپ نے کانٹا کہا تو کانٹا ہو گیا، تو ہم اور آپ طے کر لیں کہ آج سے پھول کانٹا ہے اور کانٹا پھول ہے، تو پھول کانٹا ہو جائے گا اور کانٹا پھول ہو جائے گا، یہ سب ہماری اور آپ کی نگاہ کا کھیل ہے، دل کی توجہ کا، دل جدھر جھکا بس اسی چیز میں قیمت پیدا ہو گئی۔

            بازار میں بھاؤ کیوں بڑھتا ہے؟ آپ سب کاروباری آدمی ہیں ، بھائی! بھاؤ کیوں بڑھا، کل وہی چیز تھی، آج وہی چیز ہے، لیکن کل اس کے دام کچھ اور تھے، آج اس کے دام کچھ ہیں ، کیا فرق ہوا؟ کہاں سے فرق آیا؟ صرف آپ کو خواہش زیادہ ہو گئی، آپ کو زیادہ چاہت ہو گئی، آپ اسے زیادہ خریدنے چلے گئے، دام بڑھ گئے، اگر آپ کہیں کہ کل سے ہم فلاں کپڑا نہیں خریدیں گے تو وہ کپڑا بے قیمت ہو جائے گا، کپڑوں کے جو نئے نئے فیشن نکلتے ہیں ، ان کی حقیقت کیا ہے؟ یہ فیشن پیرس سے نکلا ہے، لندن سے نکلا ہے، لوگوں نے پسند کیا اور فیشن بن گیا، اور ساری دنیا میں پھیل گیا، اور پھر اس کے بعد اس کو ایسا بھول جاتے ہیں کہ اگر کوئی اس فیشن میں نکلے تو اسے دیوانہ سمجھیں اور آؤٹ آف ڈیٹ سمجھیں ۔

            اپٹوڈیٹ(Up to Date) اور آؤٹ آف ڈیٹ(Out of Date) کی حقیقت کیا ہے؟ آپ ہیں سب کچھ، آپ نے کہا: یہ چیز اچھی ہے، زمانہ کے مطابق ہے، وہ اپٹوڈیٹ ہو گئی، آپ نے کہا: یہ پرانے زمانے کی چیز ہے، ہمیں پسند نہیں تو آؤٹ آف ڈیٹ ہو گئی۔

            تو آپ ہی اس دنیا میں سب کچھ ہیں ، مگر آپ کا طرز عمل یہ بتاتا ہے کہ آپ خدا کی مرضی پر خوش نہیں ہیں ، خدا کچھ چاہتا ہے، آپ کچھ چاہتے ہیں ، خدا بنانا چاہتا ہے، آپ بگاڑنا چاہتے ہیں ، خدا سرسبزوشاداب رکھنا چاہتا ہے، آرام پہنچانا چاہتا ہے، آپ کہتے ہیں : ہم آرام نہیں پہنچنے دیں گے۔ یہ ہمارا طرزِ عمل ہے، گویا ہمیں خداسے لڑائی ہے، معاف کریں ہمارے ہندومسلمان بھائی، ہم سب مذہبی لوگ ہیں ، ہم سب یقین کرتے ہیں مذہب کی حقیقتوں میں ، اس کی سچائیوں میں ، لیکن ہم اپنے طرزِ عمل سے ثابت کرتے ہیں جیسے ہم کو خدا سے ضد ہو، وہ دن کہے تو ہم رات کہیں ، وہ رات کہے تو ہم دن کہیں ، وہ اچھا کہے توہم برا کہیں ، وہ برا کہے تو ہم اچھا کہیں ، وہ کہے کہ مل کر رہو، محبت سے رہو، ہم کہیں کہ ہمیں منظور نہیں ۔

خدا کی بُردباری دیکھیے

            ایک دکان پر آپ چلے جائیے اور دو ایک برتنوں پر ہاتھ صاف کر دیجیے ،بے قرینہ کر دیجیے، توڑنا پھوڑنا نہیں ، اس کا ذکر کیا، بے قرینہ رکھ دیجیے، تو دکان والا خواہ آپ کا کیسا دوست ہو، کیسا شریف آدمی ہو، وہ بگڑ جائے گا اور آستین چڑھا لے گا کہ آپ کو کیا حق ہے؟ ہماری دکان کا انتظام کرنے کیوں آئے؟خدا کی بردباری دیکھیے کہ برابر انسانوں کو بھیج رہا ہے، برابر روزی دے رہا ہے، زمین غلہ اگا رہی ہے، آسمان پانی برسارہاہے، کسی چیز میں کوئی ہڑتال، کوئی اسٹرائک نہیں کہ خدا نے وہ چیز روک دی ہو ہماری نالائقی سے ، لیکن ہمارا کیا طرز عمل ہے؟ ہم خدا کو برابر غصہ دلانا چاہتے ہیں ، شکر ہے، اسی کی تعریف ہے کہ وہ بچوں کی طرح غصہ میں نہیں آتا ، ورنہ اگر ہمارے کرتوتوں سے وہ غصہ میں آ جاتا تو کب سے یہ دنیا لپیٹ کر رکھ دی جاتی ، یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا اتنے دنوں سے برداشت کر رہا ہے، خدا ابھی اس دنیا سے مایوس نہیں ہے، خفا نہیں ہے، اور ہم بات بات پر خفا ہوتے ہیں ، ہمیں چاہیے تھا کہ خدا کا ہمارے ساتھ جو معاملہ ہے، کم سے کم اپنے ساتھیوں کے ساتھ، اپنے بھائیوں کے ساتھ وہ معاملہ کرتے۔

            خدا تو ایساکہ جو چاہو کر گزرو، اور وہ خفا نہیں ہوتا، یعنی اس طرح سے ناراض نہیں ہوتا کہ دنیا کو تہہ کر کے رکھ دے، اُلٹ کر رکھ دے کہ بس ختم، وہی زمین و آسمان، چاند سورج، بارش و ابر، وہی قانونِ قدرت (Cosmic Law)برابر چلے آرہے ہیں ہزاروں لاکھوں برس سے ، مگر ہمیں کچھ تو سوچنا چاہیے کہ آخر یہ کب تک ہوتا رہے گا؟

علم نے کیا فائدہ پہنچایا؟

            آج دنیا میں علم کا کتنا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے، ڈنکا بجایا جا رہا ہے، لیکن کیا اس علم نے ہمیں فائدہ پہنچایا؟ کیا ہم کو آدمی بنا دیا؟ علم کا فائدہ تو ہم نے یہ اٹھا یا کہ جو کام ہم بھدے طریقے پر کرتے تھے، دیر میں کرتے تھے ، اس کو ہم بہت سلیقے کے ساتھ ٹیکنیکل (Technical)، خوبصورت (Beautiful)،ترقی یافتہ (Advanced)طریقے پر اور بہت جلدی ہم اسے کر لیتے ہیں ، یعنی پہلے ہلاکت بیل گاڑی پر بیٹھ کر آتی تھی ، بیل گاڑی دیر سے پہنچے گی تو ہلاکت بھی دیر سے پہنچے گی، پھر وہ گھوڑ ے سے جانے لگی، پھر ریل گاڑی سے ، پھر ہوائی جہاز سے جانے لگی، اور اب ایٹمک انرجی (Atomic Energy)اور اس کی سرعت اور اس کے زور سے جانے لگی، بتائیے کہ یہ انسانوں کے لیے اچھا ہوا؟ پہلے ہی غنیمت تھا کہ ایک بادشاہ ملک فتح کرنے چلتا تھا، گھوڑوں پر، اونٹوں پر ، ہاتھیوں پر، اتنی دیر میں دوسرے لوگوں کو خبر ہوتی وہ تیاری کر لیتے تھے، اب تو سائنس نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ ایک منٹ کی بھی مہلت نہیں مل پاتی، ہیروشیما میں ، ناگا ساکی میں کیا ہوا؟ کیا ان کو کچھ مہلت ملی؟ علم تو حاصل کر رہے ہیں ، لیکن یہ ایسا بن گیا ہے جیسے کہ کسی شرابی کے ہاتھ میں ،بدمست کے ہاتھ میں تلوار آ جائے، تیز دھار کی کوئی چیز آ جائے، وہ تو شرابی بدمست ہے، کسی کا گلا کاٹ دے گا، بھائی کا گلا کاٹ دے ، بچہ کا گلا کاٹ دے، ایسے ہی آج بھائی بھائی کا گلا کاٹ رہا ہے۔

خطرہ مول لینا پڑتا ہے

            میرے بھائیو اور دوستو! ابھی خدا نے ہمیں مہلت دی ہے، اور دیکھیے اب بھی آواز میں ، سچائی میں ، خلوص میں ، سادگی میں اثر ہے، درد میں اثر ہے کہ اتنے آدمیوں کو یہ درد بلا سکتا ہے، تڑپنے والے، سوچنے والے دل و دماغ ہمارے ملک میں بڑی تعداد میں موجود ہیں ، لیکن قصہ یہ ہے کہ کوئی ہمت نہیں کرتا، جو فسادات ہوتے ہیں ، اس میں سب لوگوں کو ہسٹیریاکا دورہ نہیں ہوتا، سب پاگل نہیں ہو جاتے، مگر ہوتا یہ ہے کہ چند بدمعاش، خدا سے نہ ڈرنے والے ، انسان کو کوئی چیز نہ سمجھنے والے میدان میں آ جاتے ہیں ، اور ہر شریف آدمی اپنی خیر منانے لگتا ہے کہ ان غنڈوں اور بدمعاشوں کے کون منھ آئے؟ ان کے کون سامنے آئے، اپنی عزت بھی خاک میں ملائے، شریف لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ جاتے ہیں ، اور اپنی خیر منانے لگتے ہیں ، ورنہ کوئی شہر ، کوئی گاؤں بھلے شریف آدمیوں سے خالی نہیں ہے، لیکن وہ ڈرتے ہیں ، ہچکچاتے ہیں ، ان کا زور جادو چل جاتا ہے جو بدمعاش ہیں ، خدا سے نہیں ڈرتے ، شریف آدمی اپنے کونوں میں بیٹھ جاتے ہیں ، وہ کہتے ہیں : بھائی! ان رذیلوں ، کمینوں ، خونخواروں کے کون منھ آئے؟ کون ان کے سامنے آئے؟ لیکن اگر اس دنیا میں ایسا ہی ہوتا رہے تو یہ دنیا چل نہیں سکتی، اس میں تو خطرہ مول لینا پڑتا ہے۔

ایک بلیغ مثال

            میری معلومات زیادہ تر مذہبی ہیں ، ہمارے پیغمبر صاحب نے ایک مثال دی، اس سے بہتر مثال مجھے اب تک نہیں ملی، میں اس لیے بھی اسے بیان کرتا ہوں کہ ایسی تصویر کھینچ دینے والی مثال مجھے نہیں ملی۔ ظلم وستم، انارکی، بدنظمی، فتنہ وفساد یہ اگر دنیا میں آئے تو اس کو روکنا چاہیے ہمت کر کے، چاہے اس میں کتنا نقصان ہو جائے، اگر نہیں روکو گے تو تم بھی نہیں بچو گے، اس کی آپ ﷺ نے مثال دی کہ(۱) [صحیح البخاري، کتاب الشرکۃ، باب ہل یقرع في القسمۃ والاستہام فیہ؟۔] ایک کشتی ہے، اس پر لوگ جا رہے ہیں ، دریا کا سفر ہے، اس میں ایک اَپرکلاس ہے، ایک لُوور کلاس ہے، ایک اوپر کا حصہ ہے جیسے کہ آج کل فرسٹ کلاس ہوتا ہے، اور نیچے ڈیک ہوتا ہے، کچھ مسافر ڈیک پر ہیں ، اور کچھ مسافر فرسٹ کلاس میں ہیں ، پانی کا انتظام اتفاق سے اوپر ہی ہے، کشتی تو دریا میں چل رہی ہے، لیکن دریا سے پانی لینا ہر ایک کے بس کا کام نہیں ، ڈول ہو، رسی ہو۔ تو یہ نیچے والے پانی لینے اوپر جاتے ہیں ، پانی کی فطرت یہ ہے کہ وہ گرتا ٹپکتا ہے، جب پانی لے کر آئے تو کشتی ہلنے والی تھوڑا اِس پر ٹپکا تھوڑا اُس پر ٹپکا، صاحب لوگوں نے ، اَپرکلاس والوں نے آستینیں چڑھا لیں کہ صاحب پانی کی ضرورت آپ کو، پانی کی غرض آپ کو اور پریشان ہم ہوتے ہیں ، دیکھیے ہم نے کپڑا بچھا رکھا تھا، فرش بچھا رکھا تھا، آپ نے اس کو بھگو دیا، دیکھیے ہمارے اوپر چھینٹے پڑ گئے، ہم آپ کو پانی نہیں لے جانے دیں گے۔

            انھوں نے کہا :پانی کے بغیر کیسے رہا جا سکتا ہے؟ انھوں نے کہا :چاہے جو ہو ہم آپ کو پانی نہیں لے جانے دیں گے۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ نیچے والوں نے سوچا کہ پانی تو ہم ضرور لیں گے پانی کے بغیر گزارہ نہیں ، ایسا کرو کہ نیچے سوراخ کر لو، اور وہیں سے اپنا ڈول ، لوٹا ڈال کر پانی نکال لیا کرو، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر ان لوگوں میں سمجھ ہے اور ان کو زندگی پیار ی ہے کچھ ہوش گوش ہے تو یہ خوشامد کریں گے، ان کے پاس جائیں گے کہ تم پانی لینے آتے تھے اور ہم ناراض ہوتے تھے، ہم خود پانی پہنچا دیں گے، لیکن خدا کے لیے ہمارے اوپر رحم کھاؤ، کشتی میں سوراخ نہ کرو، اور اگر انھوں نے کہا کہ ہماری بلا سے، ارے بھائی! سوراخ تو نیچے ہو رہا ہے، اوپر تو نہیں ہو رہا ہے، ہم تو اوپر رہتے ہیں ، ہم تو بالا نشین ہیں ، ہم تو اپر کلاس کے لوگ ہیں ، اور یہ لور کلاس کے ذلیل لوگ ہیں ، سوراخ کر رہے ہیں تو نیچے کر رہے ہیں ، ہم تو آرام سے رہیں گے، آپ ﷺ نے فرمایا:جب سوراخ ہو گا تو نہ لوور کلاس والے بچیں گے اور نہ اپر کلاس والے بچیں گے، کشتی ڈوبے گی تو سب کو لے ڈوبے گی۔

            آج ہماری سوسائٹی میں ، صرف ہندوستان کو نہیں کہتا، ہمارا یہ موجودہ بیسویں صدی کا سماج ایسی ہی کشتی بن گیا ہے کہ اس میں اپر کلاس والے بھی ہیں ، اور لوور کلاس والے بھی ہیں ، اپر کلاس والوں کی پیشانی پر بل آتے ہیں ، اور یہ بات بات پر اپنا امتیاز ثابت کرتے ہیں ، اور احساس برتری میں مبتلا ہیں ، نیچے والے کہتے ہیں (نیچے اوپر کا فرق یوں سمجھئے کہ جس کو ضرورت پڑتی ہے اس کو آپ لور کلاس سمجھ لیجیے، اور جسے ضرورت نہیں پڑتی اسے اپر کلاس ) کہ ہمیں کام سے کام ہے، ہم کچھ نہیں دیکھتے ہمارا کام تو نکلنا چاہیے، کرپشن ہے، ذخیرہ اندوزی ہے، بلیک مارکیٹنگ ہے، بے ایمانی ہے، کام چوری ہے، مزدور کام نہیں کرتا، مزدوری زیادہ لینا چاہتا ہے، اور جو مالک ہے مل اور کارخانے کا، وہ چاہتا ہے کہ یہ کام تو کرے پورا سولہ آنے، اور اگر کوئی ایسا قانون ہو کہ ایک آنہ ہم دے سکیں تو ایک ہی آنہ دیں ، نتیجہ یہ ہے کہ ہر ایک کام نکالنا چاہتا ہے، سب لوگ اِن ڈائرکٹ (Indirect) طریقے پر سوراخ کر کے پانی بھر رہے ہیں ، پوچھنا پاچھنا کچھ نہیں ، اپنا کام ہے، اللہ نے ہم کو ہاتھ دیے ہیں ، پاؤں دیے ہیں ، سمجھ دی ہے، جو کچھ ہماری سمجھ میں آئے گا کریں گے، اب سماج میں جو لوگ سمجھ دار ہیں ، دانش ور ہیں ، اسکالر ہیں ، محب وطن اور ملک کو چاہنے والے ہیں ، اگر انھوں نے کہا :ہماری بلا سے یہ جانیں ان کا کام جانے، ہم آنکھیں بند کر لیتے ہیں ، یہ چاہیں مریں ، جئیں ، تو نتیجہ کیا ہو گا؟

            کشتی میں پانی بھرے گا، کشتی ڈوبے گی، اور بھائی جب کشتی ڈوبے گی تو امتیاز نہیں کرے گی، آگ جب کسی گاؤں میں لگتی ہے تو وہ امتیاز نہیں کرتی کہ یہ مسلمان کا گھر ہے، یہ ہندو کا گھر ہے، یہ شریف آدمی کا گھر ہے، یہ خاں صاحب کا گھر ، یہ شیخ صاحب کا گھر، یہ پنڈت جی کا گھر، یہ فلاں کا گھر، کچھ نہیں ، آگ تو اندھی بہری ہوتی ہے، جب لگتی ہے تو سب جلا کر خاک سیاہ کر دیتی ہے، سیلاب آتا ہے تو وہ امیر غریب، اونچے نیچے میں کوئی فرق نہیں کرتا۔

ہمارا سماج ڈانواں ڈول

            میں آپ سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آج سماج کی کشتی ڈانواں ڈول ہو رہی ہے،اور اس میں بہت سے مسافر ایسے ہیں جو اس میں سواراخ کیے ہوئے ہیں اور سوراخ سے اپنا ڈول ڈال کر پانی بھر رہے ہیں ، دفتروں میں کیا ہو رہا ہے؟ اسٹیشنوں پر کیا ہو رہا ہے؟ اور ہمارے محلوں میں کیا ہو رہا ہے؟ آدمی کو بس اپنے کا م سے مطلب ہے اور کسی چیز سے مطلب نہیں ، ہمارا الوسیدھا ہونا چاہیے، (ہماری زبان کا بہت پھوہڑ سا محاورہ ہے کہ ہمارا اُلو سیدھا ہونا چاہیے) باقی ہم کو مطلب نہیں کہ کس پر کیا گزرتی ہے، اس فلسفہ پر سب کا عقیدہ ہے، نتیجہ یہ ہے کہ سارا ملک اپنا فائدہ دیکھ رہا ہے۔

            وہی بات ہوئی کہ ایک بادشاہ تھا، اس نے ایک تالاب بنایا اور اعلان کیا کہ ہمیں دودھ کا حوض چاہیے، سب لوگ اس میں دودھ ڈالیں ، ایک ایک بالٹی دودھ لائیں اور ہم سے پیسے لے لیں ، ہر شخص نے یہ سوچا، میں نے سوچا، آپ نے سوچا کہ ارے بھائی! سب لوگ تو دودھ کی بالٹیاں لائیں گے، ایک میں نے اگر پانی کی بالٹی ڈال دی تو کیا پتہ چلے گا؟کون اس کو کیمیاوی طریقہ پر دیکھے گا کہ دودھ کی بالٹیوں میں کتنی پانی کی بالٹیاں ہیں ، اور کون لایا تھا؟ ایک شخص چلا، وہ پانی کی بالٹی لے چلا، اور اس نے پانی کی بالٹی ڈال دی ،ہر ایک نے ایسا ہی کیا، ہر آدمی نے اسی ذہن سے سوچا، اور اتفاق سے دودھ کی بالٹی والوں نے بھی یہی سوچا کہ پانی کی بالٹی ڈالیں ، نتیجہ یہ ہوا کہ صبح بادشاہ سلامت آئے خوش و خرم کہ حوض لبالب سفید دودھ سے بھرا ہو گا، اور ہم اس پر فخر کریں گے کہ ہم نے دودھ سے حوض بھر دیا، دیکھا کہ وہاں تو پانی بھرا ہوا ہے، ارے یہ کیا غضب ہوا؟ معلوم ہوا کہ پورے شہر نے ایک ہی دماغ سے سوچا۔

            آج مشکل یہ ہے کہ ہر شخص کا دماغ ایک طرح کا ہو رہا ہے، کچھ لوگوں کا استثناء تو آپ کو کرنا ہو گا، خدا نے پانچ انگلیاں برابر نہیں کیں ، لیکن پانی کی بالٹی والا رجحان (Trend) بڑھ رہا ہے، اور یہ خیال کہ ہمیں پیسے لینے ہیں ، ہمیں خدا سے شرم آنی چاہیے اور کوئی بات ایمانداری کے خلاف نہیں کرنی چاہیے، یہ چیز سکڑتی اور سمٹتی چلی جا رہی ہے، ہم یقین کرتے ہیں فوری فائدہ میں ۔

            ہماری سوسائٹی کی بیماری یہ ہے کہ ہر ایک اپنی مٹھی فوراً گرم کرنا چاہتا ہے، بھائی! ایک دو، دوچار ہزار کی مٹھی گرم ہونے سے کچھ نہیں ہوتا، اس سوسائٹی کا کیا ہو گا جس میں مٹھی تو گرم ہو گئی، لیکن سوسائٹی بجھتی جا رہی ہے، ٹھنڈی پڑتی چلی جا رہی ہے، آج ہمارا عقیدہ جمتا چلا جا رہا ہے کہ جس کام سے چار پیسے ملیں وہی کا م عقلمندی کا ہے، ہر گز وہ عقل مندی کا نہیں ہے، مَن ماریے پھر آپ کا مَن خوش ہو گا، آپ کے مَن کو آسودگی اور اطمینان حاصل ہو گا، لیکن سب جلد سے جلد اگر مَن خوش کرنا چاہیں تو پھر کسی کا مَن خوش نہیں ہو گا، پھر آپ دیکھیے گا کہ یہ سوسائٹی، یہ دنیا وبال بن جائے گی اور لوگ پنا ہ مانگیں گے، اور کہیں گے خدا موت دے۔

ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

            ایسے سماج میں موت کی خواہش ہوتی ہے، اور آج اگر آپ لوگوں کو تلاش کریں گے تو کتنے بھائی آپ کو ایسے ملیں گے جو مرنا پسند کرتے ہیں ، اس جینے سے تو مرنا اچھا، ہم نے شاعروں کا کلام پڑھا ہے ، ادیبوں کی تحریریں دیکھی ہیں کہ جب یہ لالچ کی بلا، یہ پیسے کی محبت بڑھ گئی، سب نے اپنی مٹھی گرم کرنی چاہی، سب نے اپنے دل کو خوش کرنا چاہا، پھر نتیجہ یہ ہوا کہ جس طرح مچھلی کو پانی سے نکال کر آپ باہر ڈال دیجیے اس کا دم گھٹنے لگتا ہے، اسی طرح پوری سوسائٹی کا دم گھٹنے لگا، پوری سوسائٹی ایسی ہو رہی ہے کہ جو پاک ہے ، قانون پر چلنے والا ہے، اس کا گزر نہیں ، اور جو قانون کو پاؤں کے نیچے مسل دینے والا ہے، اس کی جیت ہے، اس کا بول بالا ہے، نتیجہ یہ ہے کہ جو لوگ اس راستہ پر چلنا چاہتے ہیں ، وہ بھی تھوڑے دنوں کے بعد وہ راستہ چھوڑ دینا چاہتے ہیں ۔

سوسائٹی کے زوال کا آخری نقطہ

            ہمارے پاس بہت سے لوگ آتے ہیں ، مولوی سمجھ کر، اور کوئی مشورہ کے لیے، ہمیں کتنے آدمیوں نے بتایا کہ ہم رشوت نہیں لیتے، ہم سے برا کوئی محکمہ میں نہیں ہے، یعنی رشوت لینے والے کو جس نظر سے دیکھنا چاہیے تھا آج رشوت نہ لینے والے کواس نظر سے دیکھا جا رہا ہے، ارے اس کو نکالو ،یہ ایک گندی مچھلی ہے جو ہمارے یہاں آئی ہے، اس کو نکالو، ارے بھائی! ہم تمہارا کیا بگاڑتے ہیں ؟ نہیں صاحب! نیک آدمی ہم کو گوار انہیں ، اس لیے کہ ہمارا ضمیر کسی وقت تو ہم کو ملامت کرتا ہے، چٹکیاں لیتا ہے کہ ایک یہ آدمی ہے جو رشوت نہیں لیتا، ہم یہ بھی برداشت نہیں کرنا چاہتے ، ایک فرد بھی ایسا نہ رہے جسے دیکھ کے ہمیں شرم آئے۔

            سوسائٹی کے زوال کا یہ آخری نقطہ ہے کہ سوسائٹی ایسی ہو جائے جس میں نیکی کے قانون پر چلنے کی گنجائش نہ رہے، اور جو قانون پر چلنا چاہے، انسان کو انسان سمجھے اور ڈرے ،اس کا دم گھٹنے لگے۔

ہم اور آپ ایک ہی کشتی کے سوار ہیں

            میرے بھائیو !ہم اور آپ ایک کشتی کے سوار ہیں ، ایک نیّا کے مسافر ہیں ، ہماری نیّا میں کچھ لوگوں نے بہت بڑا سوراخ کرنے کا ارادہ کیا ہے، ہمارے ہی سماج کے بہت سے لوگوں نے، چھوٹے سوراخ تو بہت سے ہیں اور بہت دنوں سے ہیں ، پانی تھوڑا تھوڑا آ رہا تھا، لیکن یہ کشتی چونکہ بہت بڑی ہے، اور بڑی کشتی دیر سے ڈوبتی ہے ، چھوٹی ناؤ ہو تو فوراً ڈوب جائے، ہمارے دیش کی کشتی ذرا بڑی ہے، اس لیے ابھی آپ کو نظر نہیں آ رہا ہے کہ اس میں کتنا پانی آ گیا، ایک جگہ آیا ہے، دوسری جگہ نہیں آیا، کئی منزلیں ہیں ، اور بہت بڑی بڑی، اس کا کوئی اور چھور نہیں ، یہ ۶۵ کروڑ کی آبادی کا ملک ہے، اور بہت بڑا ملک ہے، کہتے ہیں ہاتھی کو مرتے مرتے دیر لگتی ہے،ایک چڑیا ہے ، اس کو آپ انگلی میں لیجیے اور مسل ڈالیے، اس کا گلا گھونٹ دیجیے، لیکن ہاتھی تو دیر میں مرے گا۔

تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں

            سنیے! یہ ہمارا ملک بہت بڑا ملک ہے، اور خدا کا شکر ہے کہ بڑا ملک ہے، ہم کو آپ کو اس کی قدر نہیں ہے، میرے ایک دوست ہیں حیدرآباد کے، وہ پیرس میں رہتے ہیں ، وہاں بہت بڑے مصنف اور عالم مانے جاتے ہیں ، جنیوا میں ایک کانفرنس تھی، اس میں ہم دونوں شریک ہوئے، ہم لوگ وہاں کے ہوائی اڈے پر سیر کرنے لگے، میرے پاس انٹر نیشنل پاسپورٹ تھا، اور ہر جگہ جا سکتا تھا، جرمنی کا بھی میرے پاس ویزا تھا، اور فرانس کا بھی، میرے دوست یک بیک رک گئے اور کہنے لگے کہ اگر میں یہاں قدم رکھ دوں (ایر پورٹ ہی کا ایک حصہ تھا ) تو میں جرمنی پہنچ جاؤں گا، اور پھر اس کے بعد بغیر ویزا کے نہیں آسکوں گا، تو یورپ میں ایسے چھوٹے چھوٹے ملک ہیں کہ اگر آپ تیز موٹر چلائیں تو باؤنڈری (Boundary) کراس (Cross) کر جائیں ، اور دوسرے ملک میں پہنچ جائیں ، یہاں یہ حال ہے کہ تین راتیں تین دن چلیے، بنگلور جائیے، کالی کٹ جائیے ختم ہی نہیں ہوتا، بھائیو! یہ خوشی کی بات ہے مگر یہ بات بڑی ذمہ داری کی بھی ہے، اس ملک کو سنبھالیے، اب اس ملک میں اس بات کی زیادہ گنجائش نہیں ہے کہ جو لوگ سوراخ کر چکے ہیں یا سوراخ کرنے پر کمر بستہ ہیں ، ہم ان کو ڈھیل دیں ،چھوٹ دیں کہ یہ جانیں ان کا کام جانے۔

            اب تو ہم کو اور آپ کو مل کر اس کشتی کو سنبھالنا ہے، اور اس دیش کی خبر لینی ہے، ورنہ پھر بھائی ’’تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں ‘‘۔

ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں

            ظلم کے بعد کوئی ملک پنپ نہیں سکتا، جو کسی نے کہا تھا   ؎

ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں

ناؤ کاغذ کی سدا چلتی نہیں

            ہم نے بچپن میں یہ سبق پڑھا تھا، اور آج بڑے بڑے منتریوں کو، بڑے بڑے پروفیسر ز اور لیڈرز کو پھر آج سنانے کی ضرورت ہے کہ ’’ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں ‘‘ ۔

            ہم نے دیکھا کہ کتنی حکومتیں یہاں آئیں اور چلی گئیں ، انگریز جانے والے تھے؟ انگریز کوئی معمولی لوگ تھے؟ معمولی حکومت تھی؟ جس کی حکومت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا، لیکن انھوں نے ظلم کیا تھا، یہی آپ کا شہر مراد آباد ہے ،کہتے ہیں کہ ۱۸۵۷؁ء میں انگریزوں نے یہاں کے سیکڑوں آدمیوں کو پھانسی پر چڑھا دیا تھا، اور پھر ایسا بوریا بستر ان کا بندھا جیسے کہتے ہیں کہ گدھے کے سر سے سینگ غائب۔

ظلم کو خدا برداشت نہیں کرتا

            بھائی! کوئی مذہب ہو، کوئی پارٹی ہو، کوئی فرقہ ہو، کوئی سماج ہو، ظلم کو خدا برداشت نہیں کرتا۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں ، کوئی فرقہ ، کوئی طبقہ، کوئی کلاس یہ سمجھتا ہے کہ ہم ظلم کر کے، بے گناہوں کا خون کر کے، اور بچوں کو دیواروں پر پٹک کر کے، اور بھٹی میں ڈال ڈال کر ہم اپنا سکہ بٹھا لیں گے، ہم اپنے لیے اس ملک کا پٹہ لکھوا لیں گے، تو وہ بھول میں ہے، اس کو اپنی بھول سے نکلنا چاہیے، خدا اس طرح کرنے تو دیتا ہے، لیکن کرنے کے بعد پنپنے نہیں دیتا، یہ جینے کے لچھن نہیں ہیں ، جو ہم ہندوستان میں کر رہے ہیں ، ارے بھائی انسان کے معنی تو یہ ہیں کہ انسان، انسان کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے، بچھو اور سانپ بھی مل جاتے ہیں ، بھیڑیے بھی ساتھ چلتے ہیں ، لیکن یہ کس طرح کا انسان ہے کہ یہ انسان کو برداشت نہیں کرسکتا، کیا دورہ اس پر پڑتا ہے؟

قصور کرے کوئی مارا جائے کوئی!!

            کوئی مسافر بے چارہ کہیں سے آیا، آپ کے مراد آباد کے اسٹیشن سے کہیں نکلا تھا، کچھ نہیں دیکھنا کہ یہ کون ہے؟ اپنی ماں کی خبر لینے جا رہا ہے، یا اپنی بیوی کے منھ میں کچھ رکھنے کہ بیچاری بھوکی ہے، بمبئی سے کما کر آ رہا ہے، اور اس نے اپنا پسینہ بلکہ خون بہا کر کچھ پیسے جمع کیے ، کسی ظالم نے خنجر نکالا اور اس کے گھونپ دیا۔

            ارے تو نے کس کو مارا؟ خدا کے بندے ذرا دیکھ، تو نے کس کو مارا؟ اس کو مارا جس کو ماں نے دودھ پلا پلا کر، چھاتی سے لگا لگا کر راتوں کو نیند حرام کر کے پالا تھا،اور خدا نے اس کی روزی بھیجی تھی! کتنے دورسے اس کی روزی بھیجی تھی!بیمار ہوا تو کیسے کیسے اس کے علاج ہوئے تھے!! کس کس طرح سے پڑھایا گیا!! اور جب یہ جوان ہوا، کھانے کمانے کے قابل ہوا ، تو نے اے ظالم ! اے دشمن!اے خدا اور انسان کے دشمن! اے اندھے انسان! تو نے کس کے چھرا گھونپا؟ اگر تجھے معلوم ہو جائے تو ہزار بار مرنا تو گوارا کرے اور کبھی نہ مارے، اس کے مرنے سے کیا اثر ہو گا؟جب اس کے گھر خبر پہنچے گی، لاش پہنچے گی، تو کیا ہو گا؟ تو خدا کو منھ دکھانے کے قابل ہے؟ ظلم اندھا اور بہرا ہوتا ہے، چھرا نکالا اور کسی کو گھونپ دیا، میں ہندو مسلمان کسی کو نہیں کہتا، اس چھرا مارنے والے کو نہ میں مسلمان سمجھتا ہوں نہ ہندو، میں اسلام کی بھی توہین سمجھتاہوں ، ہندو مذہب کی بھی توہین سمجھتا ہوں ، ہزار بار ان کا مذہب ان سے بیزار ہے، اور وہ ہزار بار اپنے مذہب کی کتاب اپنے سر پر رکھ کر قسم کھائیں کہ ہم مسلمان ہیں ، ہندو ہیں ، تو خدا کی لعنتیں برستی ہیں ان کے اوپر، خدا بیزار ہے ایسے لوگوں سے ، مذہب؟ مذہب یہ تربیت دیتا ہے؟ یہ سمجھاتا ہے؟قصور کرے کوئی مارا جائے کوئی!!

ہزار چیتوں سے زیادہ خونخوار

            وہ بے چارہ ابھی اسٹیشن سے باہر ہی آیا تھا، کیسے کیسے ارمان لے کر آیا تھا، گھر جاؤں گا، ماں کی باچھیں کھل جائیں گی، ماں آگے بڑھے گی کہ میرا لال آ گیا، بیوی خوش ہو جائے گی، اس کا چہرہ دمکنے لگے گا، بچے آ کر پاؤں سے لپٹ جائیں گے، میں بمبئی سے تحفے لے کر آیا ہوں ، میں کسی کے لیے روپے لے کر آیا ہوں ، کسی کے لیے کرتا لایا ہوں ، کسی کے لیے جوتا لایا ہوں ، کسی کے لیے مٹھائی لایا ہوں ، یہ سارے ارمان اس کے دل میں رہے، اور اس ظالم نے، اس قاتل نے، اس خونخوار نے، ہزار چیتوں سے زیادہ خونخوار، ہزار بچھوؤں سے اور سانپوں سے زیادہ لعنتی، اس نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ، نہ یہ دیکھا کہ کہا ں سے آیا ہے؟ کتنی دور سے آیا ہے؟کیسے کیسے سہانے خواب دیکھتے ہوئے آیا ہے؟اور چھرا گھونپ دیا، دنیا میں کون سا مذہب ہے جو اُس کو سینے سے لگائے اور پیار کرے؟ جوتوں سے مارے جانے کے قابل ہے، جوتوں کی توہین ہے، جوتوں کے تلووں کی توہین ہے، پاک ہاتھ اس پر پڑ کرنا پاک ہو جائے گا۔

کیا زمانہ میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں ؟

            میرے بھائیو! یہ پنپنے کی باتیں ہیں ؟ یہ خدا کے پیارو محبت کو کھینچنے والی باتیں ہیں ؟ یہ دنیا میں ترقی کرنے والی اور ملک کو نیک نام کرنے والی باتیں ہیں ؟ جب ہم باہر جاتے ہیں تو ہمارا سر جھک جاتا ہے، میں دوسرے ممالک میں جاتا ہوں ،لوگ پوچھتے ہیں کہ بھائی تمھارے ملک میں روز فساد ہوتا ہے، روز ایک قصہ ہوتا ہے، ہنگامہ ہوتا ہے، کیا جواب ہے اس کا سوائے اس کے کہ سر جھکا لوں ، اور کہوں کہ بھائی جہالت کا کرشمہ ہے، جب تہذیب آئے گی، علم آئے گا، خدا کا خوف ہو گا تو یہ سب نہیں ہو گا، کب ہو گا وہ؟ اس سے پہلے تو قیامت آ جائے گی، اتنے دنوں سے تو ہم دیکھ رہے ہیں ، کچھ نہیں ہوا، کیسے کیسے تمھارے یہاں ریفارمر (Reformer) پیدا ہوئے، اور اسی نواح کے رہنے والے محمد علی ، شوکت علی نے کس طرح ہندو مسلم ایکتا کا نعرہ لگایا، سارے ملک میں ایک نشہ سا چھا گیا، میں نے دیکھا ہے اور حضرات نے بھی دیکھا ہو گا، میں دس گیارہ سال کا تھا، خدا کی شان ہے، اگر کہیں ہندوستان ویسے رہ جاتا تو کیا ہوتا، یعنی دل سے دل ملے ہوئے تھے، ہندو مسلم گلے ملتے تھے، کیسا اچھا زمانہ تھا، لیکن انگریز کی چال چل گئی، لارڈ ہارڈنگ نے یہاں ایک کھیل کھیلا ، اس نے لڑا کے دکھا دیا، اور پھر اس کے بعد آج تک وہ منظر نہیں آیا، کہیں کہیں ہم نے اس منظر کی جھلک دیکھی ہے، اور اس کی جھلک یہاں بھی نظر آتی ہے کہ آج آپ لوگ بلا تفریق مذہب و ملت اتنی تعداد میں جمع ہوئے ہیں ، ایک ایسے شخص کی بات سننے کے لیے جس کو آپ جانتے نہیں ، پہچانتے نہیں ، اور اس کی شخصیت کچھ نہیں ۔

یہ لمبی نیند ہے

            مایوس ہونے کی کوئی بات نہیں ، خدا کا شکر ہے کہ ہمارا ملک سویا ہے، مرا نہیں ، سویا ہوا جگایا جا سکتا ہے، لیکن مرا ہوا جِلایا نہیں جا سکتا ، ہم سوئے ہیں ، مرے نہیں ، خدا کا شکر ہے، رب کا شکر ہے، پیدا کرنے والے کا شکر ہے ہم کئی بار سوئے ،کئی بار جاگے، یہ انسانیت کئی بار سوئی ،کئی بار جاگی، اور جاگی تو ایسی جاگی کہ اپنے سونے کی سب تلافی کر دی، ہمیں امید ہے کہ ہمارا ملک جب جاگے گا تو اس سونے میں جو جو حرکتیں ہوئیں ، وہ جوسوتے ہوئے اس کا ہاتھ کسی پر پڑ گیا تھا، کسی کو تکلیف ہوئی تھی، سب کی معافی مانگ لے گا، یہ سونے والا جب جاگے گا تو سب کی معافی مانگے گا، سب کے پاؤں پکڑ ے گا کہ سونے میں اگر کوئی بات ہوئی ہو تو ہمیں معاف کیجیے، ہمیں خبر نہ تھی، یہ سب ایک لمبی نیند ہے جس کو آپ دیکھ رہے ہیں ۔

            میں ان فسادیوں کو سویا ہوا انسان سمجھتا ہوں ، ان کو راکشس نہیں سمجھتا، ان کے اندر کا انسان سوگیا ہے، اور ان کے باہر کا حیوان جاگ گیا ہے، اور چاہیے یہ کہ ان کے باہر کا حیوان سوجائے اور ان کے اندر کا انسان جاگ جائے۔

کیا ہم فسادات کی خبریں ہی سننے کے لیے زندہ رہ گئے؟

            ہمیں اپنے متعلق کوئی غلط فہمی نہیں ، اپنے متعلق ہمیں کوئی دھوکہ نہیں کہ ہم دنیا میں کوئی بڑا انقلاب لے آئیں گے، ہمیں اپنی حقیقت خوب معلوم ہے، مگر کیا کریں بیٹھا نہیں جاتا،ہم اخبار ہی دیکھنے کے لیے زندہ رہ گئے؟ ہم فسادات کی خبریں ہی سننے کے لیے زندہ رہ گئے؟ ہم انسانیت کی تذلیل دیکھنے کے لیے ہی زندہ رہ گئے؟ ہم سے زیادہ بدقسمت کون ہے؟ ارے بھائی !بجائے اس کے کہ ہم اخبار میں پڑھیں ، ہم سے جو کچھ ہوسکتا ہے ہم وہ کریں ۔

            میں نے ۵۱-۵۲ ء سے یہ کام شروع کیا تھا، جب میں ہندوستان کے باہر سے آیا اور یہاں دیکھا تو مجھ سے رہا نہیں گیا، میں نے اس وقت پکار لگائی، میرے جو مضامین ہیں ’’مانوتا کا سندیش‘‘ وغیرہ اسی زمانہ کے ہیں ، مگر اس کے بعد میں دوسرے کاموں میں لگ گیا،خدا مجھے معاف کرے، میرا مالک مجھے معاف کرے، مجھے اس کام کو سب پر مقدم رکھنا چاہیے تھا۔

            بس میں اپنی بات ختم کرتا ہوں ، میں نے آپ کا بہت وقت لیا، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ میں نے یہاں جو بات کہی، وہ خدا لگتی بھی کہی اور آپ کی اپنی کہانی سنائی آپ کو۔

http://lib.bazmeurdu.net/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A2%D9%86%DB%92-%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92-%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86-%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%A7%D8%A8%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%AD%D8%B3%D9%86-%D8%B9%D9%84/

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s