بیماری گناہوں کا کفارہ ہے

 سید ارسلان حسین زیدی

https://daleel.pk/2017/08/09/53118

Advertisements

قربانی کرنے والے کے لیے ناخن اور بال نہ کاٹنا

:جواب

آپ نے قربانی کرنے والے کے لیے ناخن اور بال نہ کاٹنے کے مستحب ہونے کے بارے میں پوچھا ہے۔

یہ بات ایک روایت میں بیان ہوئی ہے۔ اسی روایت کی وجہ ہی سے اسے مستحب عمل قرار دیا جاتا ہے۔ کسی روایت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے اس پر عمل کا ذکر نہیں ہوا ہے۔ لھذا اس کے لازمی ہونے کا کوئی قائل نہیں ہے۔

Talib Mohsin

http://www.al-mawrid.org/index.php/questions/question_urdu/eid-ul-azha

کیا جہنم کافروں کا ابدی ٹھکانہ نہیں ہے؟

:سوال

جاوید احمد صاحب غامدی کی کتاب میزان کے باب ’ایمانیات‘ میں آخرت پر ایمان‘ والے حصے میں یہ لکھا ہوا ہے کہ جہنمی آخر کار یا تو جہنم میں جل کر خاک یا راکھ ہو جائیں گے یا پھر سب کو سزا دینے کے بعد جہنم کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ اس سلسلے میں ایک آیت کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس میں یہ بھی ہے کہ کافر جہنم میں رہیں گے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں ۔ تو اس کا پھر کیا مطلب ہوا؟ اسی کتاب میں جنتی زندگی کو بار بار ابدی بتایا گیا ہے تو کیا دوزخیوں کی زندگی ابدی نہیں ہو گی؟


:جواب

جہنم کے خاتمے کے حوالے سے جاوید صاحب کی جو بات آپ نے نقل فرمائی ہے ، اس کا مدعا غالباً آپ پر پوری طرح واضح نہیں ہوا ہے۔ جاوید صاحب نے سورۂ ہود(11) کی آیت 106۔107کے حوالے سے جہنم کے خاتمے کی بات کو صرف ایک امکان کے طور پر بیان کیا نہ کہ واقعہ کے طور پر ۔ ان کی پوری بات اس طرح ہے:

” قرآن مجید میں یہ بات جگہ جگہ بیان کی گئی ہے کہ جانتے بوجھتے کفر و شرک کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے دائمی عذاب ہے ۔ اسی طرح کوئی مسلمان اگر عمدًا کسی مسلمان کو قتل کر دے تو اس کے لیے بھی یہی سزا بیان ہوئی ہے ۔ قانون وراثت کی خلاف ورزی کرنے والوں کو بھی اسی کی وعید فرمائی گئی ہے ۔ یہی معاملہ بعض دوسرے کبائر کے مرتکبین کا بھی ہے ۔ اس میں شبہ نہیں کہ دوزخ میں وہ لوگ بھی ہوں گے جو اپنے گنا ہوں کی سزا بھگت لینے کے بعد اس سے نکال لیے جائیں گے ، لیکن قرآن کی ان تصریحات سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کے مجرموں کی تعذیب کے لیے دوزخ ہمیشہ قائم رکھی جائے گی۔ اس کے باوجود یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ ایک دن اس کی بساط لپیٹ دی جائے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا عذاب وعدہ نہیں ، بلکہ وعید ہے اور عالم کا پروردگار یہ حق یقینا رکھتا ہے کہ اپنی رحمت سے ان مجرموں کی سزا میں تخفیف کرے یا خاک اور راکھ بنا کر ہمیشہ کے لیے اسی جہنم کی مٹی میں دفن کر دے :

’’پھر جو بد بخت ہوں گے ، وہ دوزخ میں پڑ یں گے ، اس میں وہ گدھوں کی طرح چیخیں اور چلائیں گے اور اسی میں پڑ ے رہیں گے ، جب تک (اُس عالم کے ) زمین و آسمان قائم ہیں ، مگر جو تیرا پروردگار چاہے۔ بے شک، تیرا پروردگار جو چاہے ، کر گزرنے والا ہے ۔‘‘ ، (سورۂ ہود11: 106۔107) “

(میزان : ص191)

اس پیرا گراف میں اصل بات یہی بیان ہوئی ہے کہ قرآن کے عمومی بیان کے مطابق جہنم ایک ابدی مقام ہے ، البتہ اللہ تعالیٰ کا یہ حق ہے کہ وہ اپنی رحمت سے اگر چاہے تو کچھ تخفیف کر دے ۔ مگر یہ کوئی حتمی بات نہیں ، بلکہ ایک ممکنہ بات ہے جس کی طرف سورۂ ہود کی مذکورہ بالا آیت اشارہ کرتی ہے ۔

اس آیت میں ’جب تک زمین و آسمان قائم ہیں ‘ کے الفاظ بے شک دوام کا ایک کنایہ ہے ، مگر اس کے ساتھ ہی ’مگر جو تیرا پروردگار چاہے ‘ کا استثنا لگا ہوا ہے ۔ اس استثنا میں جو تیرا رب چاہے کہ کا مطلب ہی یہ ہے کہ اس جہنم کا دوام اللہ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہے ۔ وہ چاہے تواس کے خاتمہ کا فیصلہ کر لے ۔ اسی لیے اس پوری بات پر تبصرہ یہ کیا ہے کہ ’بے شک، تیرا پروردگار جو چاہے ، کر گزرنے والا ہے ‘۔ یعنی جہنم کو ہمیشہ قائم رکھنا اللہ تعالیٰ کی کوئی ایسی ذمہ داری نہیں جسے پورا کرنا اس کے لیے لازمی ہو۔اس کا رہنا یا نہ رہنا اللہ تعالیٰ کی مرضی اور مشیت پر موقف ہے اورکوئی چیز ایسی نہیں جو اس فیصلہ کی راہ میں رکاوٹ بن سکے ۔ البتہ جنت کے ہمیشہ باقی رکھنے کا اس نے وعدہ کر رکھا ہے ۔اسی لیے جنت کا معاملہ یہ نہیں ہے ۔ اس بات کو آگے جنت کے ذکر میں ’ختم نہ ہونے والی عطا‘ کے الفاظ سے کھول دیا گیا ہے۔

اگلی آیت میں جنت کا ذکر کرتے وقت بھی ’مگر جو تیرا پروردگار چاہے ‘ کا استثنا بیان ہوا ہے ۔ مگر اس سے مراد اس حقیقت کو واضح کرنا ہے کہ جنت کی بقا و دوام صر ف اللہ تعالیٰ کی عطا و بخشش کا نتیجہ ہے ۔پھرکسی بھی ممکنہ غلط فہمی کے ازالے کے لیے فوراًیہ فرمادیا کہ یہ وہ عطا ہے جو کبھی منقطع نہیں ہو گی۔باقی رہی جہنم تو بلاشبہ وہ ایک ابدی جگہ ہے ۔ کسی مجرم کو اس بیان سے کوئی خوش فہمی نہیں ہونی چاہیے ۔جاوید صاحب نے صرف ایک ممکنہ چیز کو واضح کیا ہے ۔ ضروری نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس امکان کو کبھی روبہ عمل لائیں ۔

 

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

ان کفار کا انجام کیا ہوگا جنہیں اسلام کی دعوت نہیں پہنچی؟

الحمد للہ
اللہ تعالی کا یہ عدل وانصاف ہے کہ وہ کسی قوم کو بھی اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک کہ ان پر اتمام حجت نہ کرلے اور آپکا رب کسی پر بھی ظلم نہیں کرتا۔
فرمان باری تعالی ہے:

“اور ہم کسی کو بھی اس وقت تک عذاب نہیں دیتے جب تک کہ رسول مبعوث نہ کردیں”

ابن کثیر رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: اللہ تعالی کا یہ فرمانا کہ:

“اور ہم کسی کو بھی اس وقت تک عذاب نہیں دیتے حتی کہ رسول مبعوث نہ کر دیں”

یہ اپنے عدل کی خبر دی ہے کہ وہ کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتے جب تک کہ اس پر اتمام حجت نہ ہوجائے اور رسول نہ مبعوث کردیا جائے جیسا کہ اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے:

“جب بھی اس میں کوئی گروہ ڈالا جائے گا تو اس سے جہنم کا داروغہ سوال کرے گا کیا تمہارے پاس ڈرانے والا کوئی نہیں آیا تھا؟ وہ جواب دینگے بیشک آیا تھا لیکن ہم نے اسے جھٹلادیا اور ہم نے کہا کہ اللہ تعالی نے کچھ بھی نازل نہیں فرمایا، تم بہت بڑی گمراہی میں ہو”۔

اور ایسے ہی اللہ تعالی کا فرمان ہے:

“اور کافرون کے غول کے غول جہنم کی طرف ہنکائے جائیں گے، جب وہ اس کے قریب پہنچ جائیں گے تو اس کے دروازے ان کے لئے کھول دیے جائیں گے اور اسکے نگہبان ان سے سوال کرینگے کہ کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے؟ وہ جواب دینگے کہ ہاں درست ہے لیکن عذاب کا حکم کافروں پر ثابت ہوگیا”

تو جو شخص اسلام اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کچھ نہیں سنتا اور نہ ہی اسے صحیح شکل میں دعوت اسلام پہنچی ہے تو اللہ تعالی اس کو کفر پر مرنے کی وجہ سے عذاب نہیں دے گا، تو اگر یہ کہا جائے کہ اس کا انجام اور ٹھکانہ کیا ہوگا تو اس کا جواب یہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالی اسے آزمائے گا اگر تو اس نے اطاعت کرلی جنت میں داخل ہوگا اور اگر نافرمانی کی تو جہنم میں جائے گا، اور اسکی دلیل مندرجہ ذیل حدیث ہے۔

اسود بن سریع رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(قیامت کے دن چار قسم کے لوگ (حجت پکڑیں گے) وہ بہرہ جو کچھ بھی نہیں سنتا ، اور وہ آدمی جو کہ احمق ہے، اور بوڑھا، اور وہ شخص جو کہ وحی نہ آنے کے فترہ میں فوت ہوا، تو بہرہ شخص کہے گا اے اللہ جب اسلام آیا تو میں کچھ بھی سن نہیں سکتا تھا، اور احمق یہ کہے گا اے اللہ اسلام آیا اور بچے مجھے مینگنیاں مارتے تھے اور بوڑھا یہ کہے گا اے اللہ جب اسلام آیا تو میں کچھ بھی نہیں سمجھ سکتا تھا اور جو فترہ میں فوت ہوا وہ کہے گا اے اللہ میرے پاس تیرا رسول ہی نہیں آیا، تو اللہ تعالی ان سے عہد لے گا کہ وہ اس کی اطاعت کرینگے تو ان کی طرف یہ پیغام بھیجا جائے گا کہ آگ میں داخل ہوجاؤ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اگر وہ اس میں داخل ہوگئے تو اسے ٹھنڈی اور سلامتی والی پائیں گے)۔

اور ایک روایت میں ہے کہ: (جو اس میں داخل ہوگیا اس پر وہ ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوگی اور جو اس میں داخل نہیں ہوگا وہ اس کی طرف کھینچا جائے گا) مسند احمد اور صحیح ابن حبان اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح الجامع میں اسے صحیح کہا ہے حدیث نمبر 881

تو ہر وہ شخص جسے اسلام کی دعوت صحیح اور سلیم طریقے سے ملی تو اس پر حجت قائم ہوگئ اور جو اس حال میں مرگیا کہ اسے اسلام کی دعوت نہیں ملی یا پھر اسے صحیح طریقے پر نہیں ملی تو اس کا معاملہ اللہ تعالی کے ذمہ ہے اور وہ اپنی مخلوق کو زیادہ جانتا اور کسی پر ظلم نہیں کرتا اور اللہ تعالی اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے۔

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد

آدم و موسیٰ علیہما السلام کا مجادلہ

By Talib Mohsin on July 01, 2001

(مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث : ۸۱)

عن ابی ھریر ۃ رضی اﷲ عنہ قال: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم: احتج آدم و موسیٰ عند ربھما۔ فحج آدم موسی۔ قال موسی : أنت آدم الذی خلقک اﷲ بیدہ و نفخ فیک من روحہ ۔ و أسجد لک ملائکتہ و أسکنک فی جنتہ ، ثم أھبطت الناس بخطیئتک الی الارض؟ قال آدم : أنت موسی الذی اصطفاک اﷲ برسالتہ و بکلامہ ۔ وأعطاک اﷲ الالواح فیھا تبیان کل شیء و قربک نجیا ، فبکم وجدت اﷲ کتب التوراۃ قبل أن أخلق ؟ قال موسی بأربعین عاما ۔ قال آدم : فھل وجدت فیھا ( وعصی آدم ربہ فغوی) (طہ ۲۰: ۱۲۱) قال : نعم۔ قال : أفتلومنی علی أن عملت عملا کتبہ اﷲ علی أن أعملہ قبل أن یخلقنی بأربعین سنۃ ؟ قال رسول اﷲ ۔ فحج آدم موسی۔

”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آدم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام ) میں اپنے پروردگار کے ہاں بحث ہوئی ۔ چنانچہ آدم (علیہ السلام )نے موسیٰ (علیہ السلام ) کو لاجواب کر دیا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : آپ وہ آدم ہو جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے بنایا ، اپنی روح آپ کے اندر پھونکی ، آپ کو اپنے فرشتوں سے سجدہ کرایا اور آپ کو اپنی جنت میں بسایا۔ اس کے باوجود آپ نے اپنی غلطی کے باعث لوگوں کو زمین پر گرا ڈالا ۔ آدم (علیہ السلام ) نے کہا : تم موسیٰ ہو جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت اور اپنے کلام کی فضیلت دے کر برگزیدہ کیا۔ تجھے تختیاں دیں جن میں ہر چیز کی وضاحت تھی ۔اور سرگوشی کے ذریعے سے تجھے تقرب عطا کیا ۔ پھر ( بتاؤ) میری پیدایش سے کتنا عرصہ پہلے تم نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے تورات لکھ دی تھی ، موسیٰ (علیہ السلام ) نے بتایا : چالیس سال پہلے ۔ آدم (علیہ السلام ) نے پوچھا : کیا تم نے اس میں( لکھا ) پایا : آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بھٹک گیا ۔موسیٰ (علیہ السلام ) نے جواب دیا : ہاں ۔ آدم (علیہ السلام ) نے کہا : تم مجھے میرے اس عمل پر ملامت کر رہے ہوجو اللہ تعالیٰ نے میرے اوپر لازم کر رکھا تھا کہ میں اسے انجام دوں اور وہ بھی میری تخلیق سے چالیس سال پہلے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (اس طرح ) آدم (علیہ السلام ) نے موسیٰ (علیہ السلام) کو چپ کرادیا ۔ ”

لغوی مباحث

احتج: دلیل دینا، کسی کے خلاف دعویٰ کرنا۔

حج: دلیل دینے میں غالب آنا۔

قربک: قریب کرنا یعنی قرب عطا کرنا ۔ اللہ تعالیٰ کی نسبت سے اس کے معنی بارگاہِ ایزدی میں مرتبہ پانے کے ہیں۔

نجیا: جس سے سرگوشی کی جائے ۔

غوی: گمراہ ہونا۔

متون

یہ روایت مختلف انداز میں روایت ہوئی ہے ۔ بعض کتب میں اس کے تفصیلی متن روایت ہوئے ہیں اور بعض میں واقعہ بڑے اختصار سے بیان ہوا ہے ۔ جس کی وجہ سے کسی میں کچھ جملے روایت نہیں ہوئے ۔ کسی میں بعض دوسرے جملے نقل نہیں کیے گئے ۔مثلاً بعض روایات میں مکالمۂ آدم و موسیٰ کے ساتھ ‘عند ربھما’ کا اضافہ مذکور نہیں ہے۔ اسی طرح ایک روایت میں ‘و اسجد لک ملائکتہ و اسکنک فی جنتہ’ کا حوالہ نہیں دیا گیا۔ بعض روایات میں ‘ثم اھبطت الناس بخطیئتک الی الارض’ کے بجائے ‘أغویت الناس و أخرجتھم من الجنۃ’، یا ‘أدخلت ذریتک النار’ یا ‘فلو لا ما فعلت لدخل کثیر من ذریتک الجنۃ’، یا ‘یا آدم أنت ابونا خیبتنا و أخرجتنا من الجنۃ’ جیسے مختلف الفاظ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اعتراض کو نقل کیا گیا ہے ۔

یہی معاملہ حضرت آدم علیہ السلام کے جواب کا ہے۔ ایک روایت میں ‘برسالتہ و أعطاک اللّٰہ ۔۔۔ فغوی’ والا جملہ نقل نہیں ہوا۔ کچھ روایات میں آخری بات مختلف طریقوں سے بیان ہوئی ہے: ‘فھل وجدت إنی أھبط فقال نعم فحجۃ آدم’، یا ‘ثم تلومنی فیما قد کتب علی قبل أن یخلقنی فاحتجا الی اللّٰہ فحج آدم موسی’۔

اس روایت کے متون کے کچھ اختلافات اہم ہیں۔ مثلاً، قرآنِ مجید کی آیت ‘عصی آدم ربہ فغوی’ (طہ ۲۰ : ۱۲۱) صحاح میں سے مسلم کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کی ۔اسی طرح اس روایت کا آخری جملہ ‘فحج آدم موسی’ کے ساتھ بعض روایات میں ‘ثلاثا’ اور بعض روایات میں ‘مرتین’ کی وضاحت بھی شامل ہے۔ مزید برآں تورات کے حوالے سے ‘اربعین سنۃ’ کی تصریح اس روایت کے اکثر متون میں موجود نہیں ہے۔

معنی

اس روایت کی شرح میں ایک بحث اس حوالے سے ہے کہ یہ واقعہ کہاں پیش آیا اور اس کی نوعیت کیا تھی ۔ چنانچہ ایک رائے یہ ہے کہ یہ ملاقات عالمِ ارواح میں ہوئی ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کر دیا ہے ۔ دوسری رائے یہ ہے کہ حضرت آدم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خواہش پر کچھ دیر کے لیے زندہ کیا گیا اور اس ملاقات میں یہ گفتگو ہوئی ۔ تیسری رائے یہ ہے کہ یہ ملاقات قیامت میں ہو گی اور اس موقع پر یہ گفتگو ہو گی جسے ایک واقعہ کی حیثیت سے بیان کر دیا گیا ہے ۔

دوسری رائے محض ایک قیاس ہے اور اس کے حق میں کوئی قرینہ بھی روایت میں موجود نہیں ۔اس رائے کے پیچھے ابوداؤد کی ایک روایت ہے ۔ اس روایت کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ ان کی ملاقات حضرت آدم علیہ السلام سے ہوتا کہ وہ ان سے تمام انسانوں کو جنت سے محروم کرنے پر بات چیت کریں ۔پہلی بات تو یہ ہے کہ بخاری و مسلم کے اس روایت کو قبول نہ کرنے کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہ ایک کمزور روایت ہے ۔دوسری یہ کہ خود اس واقعے کی جو تفصیلات اس روایت میں بیان ہوئی ہیں ،وہ بھی اسے دنیا میں ہونے والا واقعہ قرار دینے میں حائل ہیں ۔ہمارے نزدیک پہلی اور تیسری رائے تھوڑے سے فرق کے ساتھ ایک ہی ہے اورروایت کا متن انھی کے موافق ہے ۔ ‘عند ربھما’ کے الفاظ بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں اور مکالمے کی جزئیات بھی ۔

اس روایت میں جنت کا ذکر ہوا ہے۔ قرآنِ مجید نے بھی حضرت آدم علیہ السلام کے پہلے مسکن کے لیے جنت ہی کا لفظ استعمال کیاہے ۔شارحین نے یہاں یہ بحث کی ہے کہ یہ کون سی جنت ہے ۔ وہی جو قیامت کے بعد بطورِ اجر ملے گی یا اس سے کوئی خصوصی جنت مراد ہے ۔ ایک رائے یہ ہے کہ یہ آخرت والی جنت ہے اور اس واقعے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ یہ جنت آدم علیہ السلام سے بھی پہلے سے موجود ہے ۔ہمارے نزدیک اس رائے کے حق میں کوئی قوی دلیل نہیں ہے، بلکہ قرآنِ مجید میں ‘یوم تبدل الارض غیر الارض والسمٰوٰت’ کے الفاظ سے جنت اور دوزخ کے پیدا کیے جانے کا اشارہ ملتا ہے۔البتہ یہ بات بھی قرآنِ مجید سے معلوم ہوتی ہے کہ آدم علیہ السلام کی جنت بھی ایک غیر معمولی ٹھکانا تھی۔ سورۂ اعراف میں شیطان کے بارے میں متنبہ کرتے ہوئے فرمایا ہے:

یَاٰ بَنِیْ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّکُمُ الشَّیْطٰانُ کَمَآ اَخْرَجَ اَبَوَیْکُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ ۔ (۷ : ۲۷)

” اے اولادِ آدم ، شیطان تمھیں فتنے میں مبتلا نہ کرے ، جس طرح اس نے تمھارے والدین کو جنت سے محروم کر دیا تھا۔”

اس آیۂ کریمہ میں جس طرح جنت کا ذکر ہے، اس میں آدم علیہ السلام کی جنت اور اجر کی جنت کے مشابہ ہونے کا مفہوم بہت نمایاں ہے ۔

اس روایت کے حوالے سے ایک ضمنی بحث چالیس سال کی مدت کے بارے میں بھی ہے ۔ ایک سوال تو اس روایت اور لوحِ محفوظ کے زمین و آسمان کی تخلیق سے پچاس ہزار سال قبل لکھے جانے والی روایت کے مابین اختلاف سے پیدا ہوتا ہے۔ شارحین نے اس کاایک حل یہ بیان کیا ہے کہ چالیس سال سے الواح کے لکھے جانے کا وقت مراد ہے۔ دوسراحل یہ ہے کہ اس سے حضرت آدم کی تخلیق کی ابتداکا وقت مراد لیا جائے، کیونکہ مسلم کی روایت میں تصریح ہے کہ آدم ۴۰ سال تک تصویر کی حالت میں رہے پھر نفخِ روح ہوا۔ پچاس ہزار سال اور چالیس سال کے تضاد کا حل یہ ہے کہ پچاس ہزار سال سے لوح کی تحریر کا وقت مراد ہے۔

ہمارے نزدیک یہ حل سوال کا جواب نہیں ہیں ۔ ہم اس سے پہلی روایت کی وضاحت میں قرآنِ مجید کے حوالے سے یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ لوحِ محفوظ میں اس دنیا میں گرنے والے ایک ایک پتے کا بھی ذکر ہے۔ لہٰذا یہ نا ممکن ہے کہ اس میں حضرت آدم علیہ السلام کے واقعات نہ لکھے گئے ہوں یا تورات لکھی ہوئی موجود نہ ہو ۔البتہ یہ ممکن ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے حوالے سے چالیس سال کا عدد بولا ہو اور راوی نے اسے تورات سے متعلق کر دیا ہو۔ اسے الواح سے متعلق قرار دینا، اس وجہ سے محلِ نظر ہے کہ الواح میں شریعتِ موسوی کے احکام ہی درج تھے ۔اس میں قصۂ آدم کا بیان ہونا بظاہر بے محل لگتا ہے ۔

ایک سوال سورۂ طہ کی آیت کے حوالے سے بھی ہے ۔ تورات میں ممکن ہے کہ اس جملے کے ہم معنی کوئی جملہ موجود ہو، لیکن اسے ‘وجدت’ کے الفاظ کے ساتھ بعینہٖ نقل کر دینا موزوں نہیں لگتا ۔ قیاس یہی ہے کہ یہ بھی راوی کا اپنا اضافہ ہے ۔

اس روایت کا بنیادی موضوع تقدیر کا مسئلہ ہے ۔ الفاظ سے یہی واضح ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے تقدیر کو عذر کے طور پر پیش کیا تھا ۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تقدیر انسانی زندگی کا احاطہ کیے ہوئے ہے، لیکن یہ بات قرآنِ مجید اور تمام الہامی کتب سے واضح ہے کہ نیکی و بدی کو اختیار کرنے کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو کامل آزادی دے رکھی ہے اور وہ کسی بھی پہلو سے اس باب میں مجبور نہیں ہے ۔ یہ آزادی امتحان کے نقطۂ نظر سے بھی عدل کا بدیہی تقاضا ہے اور اللہ تعالیٰ کے عادل ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں انسان کی آزادی کویقینی بنانے کے لیے اس دنیا کو بہت موزوں بنایا ہے ۔ہمیں یقین ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام تقدیر کے اس پہلو کو کبھی عذر کے طور پر پیش نہیں کر سکتے ۔ یہ چیز اس روایت کو اور بھی کمزور کر دیتی ہے ۔

اگر حضرات آدم و موسیٰ علیہما السلام میں یہ مکالمہ ہوا تو وہ اپنی غلطی کے اعتراف ، اس اعتراف اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبولیت اور مراتب کی بحالی ہی کا ذکر کریں گے ۔ مزید برآں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسا جلیل القدر پیغمبر اپنے باپ سے اس بات پر مواخذہ کیوں کرے گا جسے اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیا ہو۔

اس روایت کے بعینہٖ ماننے سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی اصل اسکیم سے واقف نہیں تھے ۔ قرآنِ مجید میں ‘انی جاعل فی الارض خلیفہ’ سے واضح ہے کہ انسان کو اسی آزمایش کی زندگی کے لیے تخلیق کیا گیا تھا ۔ جنت اس کے لیے اجر میں ملنے ہی کے لیے ہے ۔ظاہر ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام ان حقائق سے سب سے بڑھ کر آگاہ تھے اور قیامت کے بعد تو یہ عملاً بھی واضح ہو چکی ہو گی ۔ پھر اس مکالمے کے وجود میں آنے کی کیا وجہ ہے ۔

ہمارے خیال میں یہ روایت اپنے اس مدعاکے ساتھ ہر اعتبار سے محلِ نظر ہے ۔

کتابیات

صحیح ابن حبان ،ج۱۴ ، ص ۵۵۔الجامع لمعمر بن راشد ، ج ۱۱ ، ص ۱۱۲۔ مسند البزاز ، ج ۱ ، ص ۲۷۴۔ مسند الحمیدی ، ج ۲ ، ص ۴۷۵۔ مسند ابی یعلی ، ج۲ ، ص ۴۱۴ ۔ ج ۳ ، ص ۹۰ ۔ ج ۱۱ ، ص ۱۱۸۔ مسند ابن الجعد ، ج ۱ ، ص۱۶۴ ۔ مسند عبد بن حمید ج ۱ ، ص ۲۹۵۔ القدر ، ج ۱ ، ص۵۳۔ السنۃ لعبد اللہ بن احمد ، ج ۱ ، ص ۲۸۷ ۔ بخاری ، کتاب احادیث الانبیا ، باب ۲۹ ۔ کتاب القدر ، باب ۱۱ ۔ کتاب التوحید ، باب۵۲۔ مسلم ، کتاب القدر ، باب ۶ ۔سنن ترمذی ، کتاب القدر ، باب ۲ ۔ سنن ابی داؤد ، کتاب السنۃ ، باب ۱۷ ۔ سنن ابن ماجہ ، کتاب المقدمۃ، باب ۱۰ ۔ مسند احمد ، مسند ابی ہریرہ ۔

http://www.al-mawrid.org/index.php/articles_urdu/view/adam-o-moosa-alaihima-salam-ka-mujadla