میں نے کل خواب میں آئندہ کو چلتے دیکھا

عزم بہزاد

میں نے کل خواب میں آئندہ کو چلتے دیکھا

رزق اور عشق کو اک گھر سے نکلتے دیکھا

روشنی ڈھونڈ کے لانا کوئی مشکل تو نہ تھا

لیکن اس دوڑ میں ہر شخص کو جلتے دیکھا

ایک خوش فہم کو روتے ہوئے دیکھا میں نے

ایک بے رحم کو اندر سے پگھلتے دیکھا

روز پلکوں پہ گئی رات کو روشن رکھا

روز آنکھوں میں گئے دن کو مچلتے دیکھا

صبح کو تنگ کیا خود پہ ضرورت کا حصار

شام کو پھر اسی مشکل سے نکلتے دیکھا

ایک ہی سمت میں کب تک کوئی چل سکتا ہے

ہاں کسی نے مجھے رستہ نہ بدلتے دیکھا

عزمؔ اس شہر میں اب ایسی کوئی آنکھ نہیں

گرنے والے کو یہاں جس نے سنبھلتے دیکھا

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s