یومِ عاشور کا روزہ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی بعض صحیح روایتوں میں اِس کی فضیلت بیان ہوئی ہے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا ہے کہ یومِ عاشور کو روزہ رکھا جائے تو اِس کے صلے میں توقع ہے کہ اللہ تعالٰی ایک سال پہلے کے گناہ بخش دیں گے۔ (مسلم،رقم:2803)

یہ البتہ،واضح رہے کہ گناہ سے مراد یہاں وہ صغائر ہیں جو حقوق العباد سے متعلق نہیں ہیں یا جن کے لیے توبہ اور تلافی کرنا یا کفارہ ادا کرنا ضروری نہیں ہے ۔ ورنہ اِس طرح کے کبائر کی معافی کی لیے توبہ اور تلافی کا وہی قانون متقاضی ہوگا جو قرآن مجید میں بیان ہوا ہے ۔

روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بالعموم اِس روزے کا اہتمام کرتے تھے ۔ (بخاری،رقم 2006 ۔ مسلم ، رقم2718 ) ۔ بلکہ رمضان کے روزوں سے پہلے تو یہ روزہ آپ لازماً رکھتے اور لوگوں کو بھی اِس کا حکم دیتے،اِس پر اُبھارتے اور اِس معاملے میں اُن پر نگران رہتے تھے ۔ (بخاری ، رقم 2002،4680 ۔ مسلم ، رقم 2708)

اِس کی تاریخ کے بارے میں روایات میں مزید یہ بھی بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے قریش اِس دن کا روزہ رکھتے تھے اور مکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اِس کا اہتمام کیا کرتے تھے ۔ پھر ہجرت کے بعد آپ نے دیکھا کہ یہود بھی اِس دن کا روزہ رکھتے ہیں تو آپ نے اُن سے وجہ پوچھی ۔ اُنہوں نے بتایا کہ یہ دن اُن کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ موسٰی علیہ السلام اور اُن کی قوم کو اللہ تعالٰی نے اِس دن نجات عطا فرمائی اور فرعون اور اُس کی قوم کو دریا میں غرق کردیا،تب موسٰی علیہ السلام نے اِس پر شکرانے کا روزہ رکھا تھا ۔ حضور نے فرمایا : موسٰی سے ہمارا تعلق تم سے زیادہ ہے ۔ چنانچہ آپ نے بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کی ہدایت فرمائی ۔ پھر جب مسلمانوں پر رمضان کے روزے فرض کردیے گئے تو یومِ عاشور کے روزے کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ جو چاہے یہ روزہ رکھے اور جو چاہے اِسے ترک کردے ۔ (بخاری،رقم2004,2002 ۔ مسلم،رقم2696،2693،2714-2712)

روایات کی اِس تفصیل سے واضح ہے کہ نفل روزے کی حیثیت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ سے یوم عاشور کا روزہ صحیح اخبارِ آحاد سے ثابت ہے ۔ چنانچہ اُسوۂ نبوی کی اتباع میں مسلمان اگر چاہیں تو اِس دن کا روزہ رکھ سکتے ہیں ۔ یہ اُن کے لیے باعث اجر وفضیلت ہوگا ۔

Advertisements