بیعت صحابہ

عَنْ جَرِیْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: بَایَعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی إِقَامِ الصَّلَاۃِ وَاِیْتَاءِ الزَّکاَۃِ وَالنُّصْحِ لِکُلِّ مُسْلِمٍ.
حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز ادا کرنے، زکوٰۃ دینے اور ہر مسلمان سے خیر خواہی پر بیعت کی۔

عَنْ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَقُوْلُ: بَایَعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی النُّصْحِ لِکُلِّ مُسْلِمٍ.
حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر مسلمان کی خیر خواہی پر بیعت کی۔

عَنْ جَرِیْرٍ قَالَ بَایَعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فَلَقَّنَنِی فِیْمَا اسْتَطَعْتَ وَالنُّصْحِ لِکُلِّ مُسْلِمٍ.
حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سمع وطاعت پر بیعت کی۔ اس موقع پر آپ نے مجھے نصیحت کی (کہ یہ بھی کہو کہ): جس حد تک تم طاقت رکھتے ہو۔ اور ہر مسلمان کی خیر خواہی پر۔

لغوی مباحث
’با یعت‘: ’مبایعۃ‘ کا لفظی مطلب ’سودا کرنا ‘ہے۔ اسی سے یہ لفظ معاہدہ کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ بالعموم یہ لفظ حکمران یا رہنماسے معاہدہ کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ معاہدے کو موکد کرنے کے لیے بیعت کرنے والا اپنا ہاتھ حکمران یا رہنماکے ہاتھ میں دے کر معاہدے کے الفاظ ادا کرتا تھا۔ سیرت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیغمبرانہ حیثیت میں ایمان وعمل پر بھی لوگوں سے بیعت لی ہے۔
’اقام‘: اصل لفظ ’ اقامۃ‘ ہے بعض اوقات اضافت میں اس کی ’ ۃ‘ حذف ہو جاتی ہے۔ نماز کے ساتھ یہ لفظ اس کے لیے اہتمام پر دلالت کے لیے آتا ہے۔
معنی
قرآن مجید کی سورۂ ممتحنہ میں خواتین سے بیعت لینے کا حکم بیان ہوا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَ کَ الْمُؤْمِنَاتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰٓی اَنْ لَّا یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْْءًا وَّلَا یَسْرِقْنَ وَلَا یَزْنِیْنَ وَلَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَہُنَّ وَلَا یَاْتِیْنَ بِبُہْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَہٗ بَیْْنَ اَیْْدِیْہِنَّ وَاَ رْجُلِہِنَّ وَلَا یَعْصِیْنَکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْہُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَہُنَّ اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ.(۶۰:۱۲)
’’اے نبی، جب تمھارے پاس مومن عورتیں بیعت کرنے کے لیے آئیں اور اس بات کا عہد کریں کہ اللہ کے ساتھ وہ کسی چیز کو شریک نہ کریں گی، چوری نہ کریں گی، زنا نہ کریں گی، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی، اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان سے متعلق کوئی بہتان نہ تراشیں گی اور کسی امر معروف میں تمھاری نافرمانی نہ کریں گی تو ان سے بیعت لے لو اور ان کے حق میں اللہ سے دعاے مغفرت کرو، یقیناًاللہ درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ ‘‘

اس آیۂ کریمہ سے واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایمان وعمل پر بیعت لیا کرتے تھے۔ کسی موقع پر عورتوں کے کسی خاص گروہ کو حضور کے پاس بیعت کے لیے آنا تھا چنانچہ ان سے بیعت لینے کے لیے حضور کو خصوصی ہدایت کی گئی۔حضرت جریر بن عبداللہ کی بیعت سے متعلق یہ روایت بھی حضور کے اسی عمل کا ایک مظہر ہے۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ ہجرت سے پہلے مکہ میں ایمان قبول کرنے والوں سے بیعت لینے کا طریقہ حضور نے اختیار نہیں کیا۔ مدینہ میں بھی حضور کا عمومی طریقہ یہ نظر نہیں آتا کہ آپ ہر ایمان لانے والے سے بیعت لیا کرتے تھے۔ بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ بیعت اصلاً ان لوگوں سے لی گئی جنھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تربیت پانے کا موقع حاصل نہیں تھا۔ روایات میں بعض ایسے صحابہ سے بیعت لینے کا بیان بھی ملتا ہے جنھیں حضور کی مصاحبت حاصل تھی۔ ممکن ہے ان روایات کے تحقیقی مطالعے سے واقعات کی کوئی اور ہی نوعیت سامنے آئے۔ بظاہر یہ امکان قرین قیاس لگتا ہے کہ یہ بیعت ان صحابہ کی خواہش کے تحت ہوئی ہوگی۔
بیعت کے واقعات مختلف صحابہ کے حوالے سے کتب حدیث میں مروی ہیں۔ ان کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر صحابی کی شخصیت کو سامنے رکھ کر بیعت لی ہے اور اس سے اس بات پر معاہدہ لیا ہے جو آپ کے نزدیک زیادہ ضروری تھا۔
امام مسلم نے حضرت جریر بن عبداللہ کی بیعت کے جو متن دیے ہیں، ان کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے درج ذیل باتوں پر بیعت لی تھی:
۱۔ نماز اور زکوٰۃ پر
۲۔ سمع وطاعت پر
۳۔ ہر مسلمان سے خیر خواہی پر۔
سوال یہ ہے کہ صرف نماز اور زکوٰۃ پر کیوں اکتفا کی گئی ہے۔یہ سوال اس خیال پر مبنی ہے کہ روایت میں یہ بات مکمل بیان ہو گئی ہے اور کسی راوی نے کوئی کمی بیشی نہیں کی۔اگرچہ سورۂ ممتحنہ کی محولہ بالا آیت اور بیعت کے دوسرے واقعات کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ممکن ہے راویوں سے کوئی بات چھوٹ گئی ہو۔ لیکن اگر حضرت جریر کی اس روایت کے متون ہی پیش نظر ہوں تو یہ خیال قرین قیاس ہے۔ چنانچہ اس صورت میں، اس سوال کا جواب ہمارے نزدیک یہ ہے کہ ہرفرد سے اس کے لحاظ سے عہد لیا گیا ہے۔شارحین روایت نے اس سوال کے جواب میں تین باتیں لکھی ہیں:
ایک یہ کہ نماز اور زکوٰۃ کو بدنی اور مالی عبادات میں سرنامے کی حیثیت حاصل ہے۔
دوسری یہ کہ ارکان اسلام میں سے یہ شہادتین کے بعد آتے ہیں اور ان کی حیثیت ایک جوڑے کی ہے۔
تیسری یہ کہ باقی دینی امور سمع وطاعت کے تحت ہیں ، اس لیے ان کے بعد ان کے ذکر کی ضرورت نہ تھی۔
ہمارے خیال میں زیادہ بہتر توضیح سورۂ توبہ کی آیت ’ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ‘کی روشنی میں ہو سکتی ہے۔ یعنی قرآن مجید نے قبول اسلام کی علامت جن چیزوں کو قرار دیا ہے حضور نے انھی کو اختیار فرمایا۔ اس لیے کہ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت جریر نے یہ بیعت قبول اسلام کے موقع پر کی تھی۔
سمع وطاعت کا عہد لیتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’فیما استطعت‘ کا اضافہ کر لینے کا کہا۔ اس اضافے سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر یہ واضح کرنا ہے کہ یہ تقاضا ہر حالت میں نہیں ہے۔ ہر آدمی دینی ذمہ داری کا مکلف اپنی حد وسع کے مطابق ہی ہے۔
ہر مسلمان کے لیے خیر خواہی کا مسئلہ ’الدین النصیحۃ ‘ والی روایت میں تفصیل سے زیر بحث آچکا ہے۔ اس لیے اسے یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس روایت کے راویوں نے حضرت جریر کی نصیحت والے حصے پر عمل کو بھی بیان کیا ہے۔ بیان کرتے ہیں کہ وہ دوسروں کی خیر خواہی کا اس قدر خیال کرتے تھے کہ ان کا غلام ایک گھوڑا تین سو درہم میں خرید لایا، یہ اس کے مالک کے پاس پہنچے اور اسے کہا کہ تمھارا گھوڑا اس سے قیمتی ہے اور اسے چار سو کی پیشکش کی۔ اس نے مان لیا تو وہ یہ کہہ کر قیمت بڑھاتے رہے کہ تمھارا گھوڑا اس سے بھی قیمتی ہے اور آٹھ سو ادا کردیے۔

متون

امام مسلم نے اس روایت کے تین متن نقل کیے ہیں۔ بالعموم کتب روایت میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ یہی متن ملتے ہیں۔ عام طور پر راویوں نے سمع وطاعت کو الگ ہی روایت کیا ہے۔ البتہ امام مسلم کے دیے ہوئے دونوں متون یکجا ایک روایت کی صورت میں منقول ہیں۔
نماز اور زکوٰۃ والی روایت کے متون میں بعض راویوں نے شہادتین کو بھی شامل کیا ہے۔ بعض رواۃ نے بیعت کے واقعے کو اس طرح بیان کیا ہے کہ حضرت جریر نے حضور سے اسلام پر بیعت کرنے کے بعد شرط عائد کرنے کا کہا تو حضور نے نماز وغیرہ کی شرط عائد کر دی۔
سمع وطاعت کی بیعت والی روایات میں کچھ متون میں ’ فیما احببت وفیما کرہت‘ کی توضیح بھی نقل ہوئی ہے۔ کچھ راویوں نے حضور کے ہاتھ پکڑنے یا ان کے دایاں ہاتھ بڑھانے کا ذکر بھی کیا ہے۔ کچھ متون ایسے ہیں جن میں ’فیما استطعت‘ کے مختصر جملے کی جگہ یہ مکالمہ نقل ہوا ہے کہ کیا تم غیر مشروط سمع وطاعت کی طاقت رکھتے ہو۔ انھوں نے جواب میں عجز ظاہر کیا تو حضور نے قدر استطاعت کی بات شامل کرنے کی نصیحت کی۔
تحریری طور پر یہ روایت سب سے پہلے ہمیں امام شافعی اور دارمی کے ہاں ملتی ہے۔ امام شافعی نے صرف نصیحت والا جملہ نقل کیا ہے اور دارمی میں نماز، زکوٰۃ اور نصیحت والا جملہ منقول ہے۔ متون کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت جریررضی اللہ عنہ نے حضور کے ساتھ اپنی اس ملاقات کا احوال کئی لوگوں سے بیان کیا تھا۔ چنانچہ اس روایت کے متعدد متون کتب حدیث میں موجود ہیں۔ بظاہر یہی لگتا ہے کہ امام مسلم کا انتخاب ہی اصل متن ہے۔ باقی متون تشریحی یا توضیحی رنگ لیے ہوئے ہیں،جو ممکن ہے حضرت جریر کے بیان کردہ الفاظ نہ ہوں۔

کتابیات

موطا، رقم۱۷۷۴؛ بخاری، رقم۵۷، ۵۰۱، ۱۳۳۶، ۶۷۷۶، ۶۷۷۸؛ مسلم، رقم۵۶، ۱۸۶۷؛ ابوداؤد، رقم ۲۹۴۰، ۴۹۴۵؛نسائی، رقم۴۱۵۶، ۴۱۵۷، ۴۱۷۴، ۴۱۷۵، ۴۱۷۷، ۴۱۷۸، ۴۱۸۸، ۴۱۸۹؛ ترمذی، رقم۱۵۹۳؛ ابن ماجہ، رقم۲۸۶۸؛ احمد، رقم۴۵۶۵، ۵۲۸۲، ۵۵۳۱، ۵۷۷۱، ۶۲۴۳، ۱۲۲۲۴، ۱۲۷۸۶، ۱۲۹۴۴، ۱۳۱۳۸، ۱۴۰۵۷، ۱۹۱۷۵، ۱۹۱۷۶، ۱۹۱۸۴، ۱۹۱۸۵، ۱۹۱۸۶، ۱۹۱۸۸، ۱۹۲۰۵، ۱۹۲۱۴، ۱۹۲۱۶، ۱۹۲۱۸، ۱۹۲۲۲، ۱۹۲۳۹، ۱۹۲۴۸، ۱۹۲۴۹، ۱۹۲۵۳، ۱۹۲۵۸، ۱۹۲۶۵، ۱۹۲۶۸، ۱۹۲۸۱؛ ابن حبان، رقم۴۵۴۸، ۴۵۴۹، ۴۵۵۲، ۴۵۵۷، ۴۵۶۱، ۴۵۶۵؛ حاکم، رقم۶۶۰۲؛ دارمی، رقم۲۵۴۰؛ابن خزیمہ، رقم۶۷۷۸؛ بیہقی، رقم۱۶۳۳۱، ۱۶۳۳۲؛ عبدالرزاق، رقم۹۸۲۲؛ ابویعلیٰ، رقم۴۳۲۷؛ ابن شیبہ، رقم۱۹۵۲۹؛ سنن کبریٰ، رقم۷۷۷۸، ۷۷۹۷، ۷۸۱۰۔ ۷۸۱۲، ۸۷۲۳، ۸۷۲۴؛ طیالسی، رقم ۱۸۸۰، ۲۰۸۳۔

Advertisements