حالات بڑے خراب ہیں

یہ صاحب ایک دفعہ پھر میرے روبرو تھے ۔ پچھلے برس ان کی بات کا خلاصہ تھا کہ بہت ٹینشن ہے ۔ اب ا ن کی بات کا خلاصہ تھا کہ حالات بڑ ے خراب ہیں اور بہتری کی کوئی امید نہیں ۔ اس دفعہ وہ ملک چھوڑ نے کے لیے پر تول رہے تھے ۔

میں نے عرض کیا :حالات واقعی بہت خراب ہیں ۔مگر آپ کے باہر جانے سے حالات زیادہ خراب ہوجائیں گے ۔ کیونکہ ایک اور اچھا آدمی قوم کے خیر و شر سے بے نیاز ہوکر اپنی اور اپنے بال بچوں کی زندگی کو مقصد حیات بنالے گا۔اس ملک کے حالات برے لوگوں نے خراب نہیں کیے ۔ ان اچھے لوگوں نے خراب کیے ہیں جو خیرو شر کی کشمکش میں غیر جانبدار رہتے ہیں ۔ جو اپنے بیوی بچوں اور نوکری اور کاروبار کے سوا کچھ سوچتے نہیں ۔

آپ نے اس ملک کے بدترین حالات میں صرف اپنی دنیا کی تباہی کے آثار دیکھے ہیں ۔ آپ یہ نہیں دیکھ سکے جو بندۂ مومن اس وقت ڈٹ گیا اور مقابلے پر کھڑا ہو گیا، مایوسی کے اندھیروں میں امید کے چراغ جلانے لگا، تعصب اور مفاد پرستی کے اس جنگل میں ایمان و اخلاق کے پھول کھلانے لگا، کل قیامت کے دن وہ شخص نبیوں کے ساتھ کھڑا ہو گا۔ خدا کی رحمتوں میں اسے سب سے بڑھ کر حصہ ملے گا۔حشر کے دن وہ عرش الٰہی کے سائے میں کھڑا ہو گا۔ خدا کے مقرب ترین بندوں میں اس کا شمار ہو گا۔ نعمتیں دیتے وقت اسے آسمان و زمین کی بادشاہی اور خزانوں سے نوازا جائے گا۔اس کے بہت چھوٹے عمل کو خدا بہت بڑی حیثیت دے دے گا۔ اس کی بڑی بڑی خطاؤں کو دیکھ کر بھی خدا ان کا احتساب نہیں کرے گا۔

ہاں حالات بہت خراب ہیں ، اگر جینا صرف اسی دنیا کے ساٹھ ستر برس کا نام ہے ۔اگر موت کے بعد کوئی زندگی نہیں تو حالات بہت خراب ہیں ۔ لیکن اگر خدا حق ہے ، جنت حق ہے ، جہنم حق ہے ، نبی حق ہے ، قیامت حق ہے تو یقین جانئیے یہی بہترین حالات ہیں ۔
From Abu Yahya’s Hadees-e-Dil
Inzaar.org
YouTube Channel: Inzaar

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s