فقیہ شہر کا لہجہ ہے پر جلال بہت

ناصر بشیر

فقیہ شہر کا لہجہ ہے پر جلال بہت

تبھی تو شہر میں پھیلا ہے اشتعال بہت

وہ ایک شخص کہ محروم شانۂ و سر ہے

اسے ہے جبہ و دستار کا خیال بہت

وہ پہلے آگ لگاتا ہے پھر بجھاتا ہے

اسے ہے شعبدہ بازی میں بھی کمال بہت

امیر شہر کی ساری تجوریاں خالی

گدائے شہر کے کشکول میں ہے مال بہت

محافظوں کی ضرورت تمہارے جیسوں کو

ہمارے جیسوں کو اپنے بدن کی ڈھال بہت

کہاں سے سیکھ کے آئے ہو گفتگو کا ہنر

اٹھا رہے ہو سر بزم تم سوال بہت

اسی کے ہاتھ پہ بیعت اسی سے عہد وفا

تمہیں یزید کا جس پر تھا احتمال بہت

فضا میں اڑتے پرندوں کو بھی نہیں معلوم

کہ باغباں نے بچھائے ہیں اب کے جال بہت

جو ہو رہا ہے تماشا وہی دکھاتا ہے

کلام ہوتا ہے ناصرؔ کا حسب حال بہت

Advertisements