ایمان کے مشروط تقاضے – حصہ اول

عام حالات میں ایمان کے دو ہی تقاضے ہیں: ایک عمل صالح اور دوسرا تواصی، یعنی باہم حق اور حق پر ثابت قدمی کی نصیحت کرتے رہنا۔ انھی کو زندگی بھر ہر حال اور ہر کیفیت میں ادا کرنا انسان پر لازم کیا گیا ہے۔ عمومی حالات میں تو ا ن کے علاوہ کوئی اور ایسا تقاضا نہیں ہے، جسے ادا کرنا اخروی نجات کے لیے لازمی ہو۔ لہٰذا، عام حالات میں، جو شخص ان تقاضوں کو پورا کرنے تک محدود رہا، اس نے ایمان کے تقاضے پورے کر دیے۔ قیامت کے دن، وہ اللہ کے ہاں اپنے دعویئ ایمان میں سچا قرار پائے گا اور اللہ کے فضل سے اس کے ابدی انعام کا مستحق ہو گا، لیکن انسان کی ساری زندگی ایک ہی جیسے حالات میں نہیں گزرتی، ہر دم بدلتی ہوئی اس دنیا میں انسان کو نئے سے نئے حالات پیش آتے ہیں۔ کسی ایک شخص کی زندگی بھی بالکل یکساں حالات میں نہیں گزرتی۔ انسان بدلتے ہوئے ان حالات کی مختلف صورتوں سے دوچار ہوتا رہتاہے۔ حالات کی ان مختلف صورتوں میں سے تین صورتیں ایسی ہیں، جن میں ایمان کے کچھ مزید تقاضے پیدا ہو جاتے ہیں۔

پہلی صورت وہ ہے، جس میں انسان کو دین کے حوالے سے، اپنے خارج میں مشکلات کا سامناکرنا پڑے۔ دوسری صورت وہ ہے، جس میں دین کو طرح طرح کے مسائل درپیش ہوں، دین کی بقا خطرے میں ہو، کچھ قوتیں اسے مٹانے کے درپے ہوں یا یہ کہ دین کا فروغ اور اس کا احیا، جو ہر صاحب ایمان کی سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے، اس کے حوالے سے بہت سی ضروریات اس کے سامنے آئیں۔ چنانچہ وہ یہ محسوس کرے کہ دین اپنی بقا اور اپنے احیا کے لیے، اس کی مدد چاہتا ہے۔ حالات کی تیسری صورت وہ ہے، جس میں حق اور انصاف اس کے دروازے پر آن کھڑے ہوں اور وہ صاف محسوس کرنے لگے کہ اگر اس نے اپنے جذبات و خواہشات اورمفادات و تعصبات کو پھلانگ کر فلاں معاملے میں حق کا ساتھ نہ دیا اور عدل و قسط پرکھڑا نہ ہوا تو اس کا نام حق و انصاف کو زندہ کرنے والوں میں نہیں، اسے مٹانے والوں میں ہوگا۔

ایک مومن کے لیے اس طرح کے مواقع براہ راست اس کے ایمان کے لیے چیلنج ہوتے ہیں۔ تب اس کا ایمان، اپنے مستقل تقاضوں کے ساتھ، اس سے کچھ اور تقاضے بھی کرتا ہے۔ یہ تقاضے ظاہر ہے، پیش آنے والے ا ن مختلف حالات ہی کے ساتھ مشروط ہیں۔ یعنی خاص حالات ہی ایمان کے ان تقاضوں کو سامنے لاتے ہیں اور ان حالات کے بدل جانے سے یہ تقاضے خود بخود ختم ہو جاتے ہیں، لیکن یہ بات ملحوظ رہے کہ جن حالات میں ان تقاضوں میں سے کوئی تقاضا پیدا ہوتا ہے، ان حالات میں، وہ ایمان کا بنیادی اورحقیقی تقاضا بن کر سامنے آتا ہے۔ لہٰذا، اس موقع پر اللہ تعالیٰ کے ہاں، ایمان کا ثبوت اس تقاضے کو پورا کرنے ہی پرمنحصر ہوتا ہے۔ اس وقت اسے پورا کرنے سے گریز کرنا اور دوسرے تقاضوں تک خود کو محدود رکھنا، حقیقت میں ایمان کی نفی قرار پاتا ہے۔ ایمان کے ان تقاضوں میں سے پہلا تقاضا ’’ہجرت‘‘ ہے، دوسرا ’’نصرت‘‘ اور تیسرا ’’قیام بالقسط‘‘۔ ذیل میں ہم ہجرت کی تفصیل کریں گے۔

ہجرت

یہ دنیا انتخاب کی جگہ ہے۔ جنت کے انتخاب کی یا جہنم کے انتخاب کی۔ کون اپنے لیے ابدی جنت چاہتا ہے اور کون ابدی جہنم۔ یہ فیصلہ ہر انسان کو اپنی موت سے پہلے بہرحال کرنا ہے۔ اسی فیصلے کی خاطر وہ اس دنیا میں آیا ہے۔ مہربان پروردگار نے انتخاب کا یہ فیصلہ انسان کے اپنے ہاتھ میں دے رکھا ہے۔ اس دنیا میں فیصلوں کا حقیقی اظہار، دل کی خواہش بتانے سے نہیں، عمل سے ہوتا ہے۔ چنانچہ پروردگار نے طے کر دیا ہے کہ انسان اپنے اس انتخاب کا اظہار بھی اپنے عمل ہی سے کرے گا۔ عمل کے لیے کبھی اس دنیا میں موافق حالات ہوتے ہیں اور کبھی ناموافق۔ ان موافق اور ناموافق حالات ہی نے انسان کے عمل کو کھرا اور کھوٹا پرکھنے کا پیمانہ بنا دیا ہے۔ زندگی کے اس سفر میں انسان کا عمل اس کے بارے میں یہ فیصلہ بہرحال کر دیتا ہے کہ وہ کیا ہے اور کیا چاہتا ہے۔ اس سفر میں جو مشکلات آتی ہیں، وہ تو آتی ہیں، کچھ ایسے مقام بھی آتے ہیں، جہاں انسان کے مفادات اور اس کے تعلقات اگر اسے سیدھی سمت میں قدم اٹھانے سے روک دیں، تو وہ اپنی منزل ہی کھوٹی کر بیٹھتا ہے۔ جس چیز کو ابتدا میں اس نے اپنی خواہش بتایا تھا، معلوم ہوتا ہے، وہ اس کی سچی خواہش ہی نہ تھی۔ جس سمت میں اس نے سفر شروع کیا تھا، پتا چلتا ہے ،وہ ادھر جانا ہی نہ چاہتا تھا یا کم از کم ہر قیمت پر ادھر جانا، اس کے پیش نظر ہی نہ تھا۔ ایمان و یقین، اسلام وتسلیم، سب دعوے ایک طرف، مشکلات کی یہ گھاٹی بتا دیتی ہے کہ دل کے اندر بسنے والی ذات خدا ہے یا کوئی اور۔ سارا بھروسا اور سارا اعتماد، آسمان والے پر ہے یا زمین والوں پر۔ انھی مقامات میں سے ایک ’’ہجرت‘‘ بھی ہے، جو بعض اوقات، انسان کی زندگی میں، ایمان کا تقاضا بن کر داخل ہوتی ہے اور اس کے صاحب ایمان ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ سنا کر چلی جاتی ہے۔

ہجرت سے مراد

لفظ ہجرت کے معنی تو محض چھوڑنے اور ترک کرنے کے ہیں۔ یہ چھوڑنا اور ترک کرنا، کسی چیز کا بھی ہو سکتا ہے، کسی جگہ کا بھی ہو سکتا ہے اور کسی کے ساتھ تعلقات اور مراسم کو چھوڑ دینا اور ترک کر دینا بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے۔ لیکن دین کی اصطلاح میں ہجرت سے مراد، خصوصاً مذہبی اور دینی وجوہ کی بنا پر اپنے وطن اور اپنے علاقے کو چھوڑ دینا ہے۔ قرآن مجید میں ہجرت کا لفظ اپنے ان اصطلاحی معنوں ہی میں استعمال ہوا ہے۔ قرآن مجید سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ یہ ہجرت صرف ایک ہی نوعیت کی نہیں ہوتی، اس کی مختلف اقسام ہیں۔ ذیل میں ہم ان اقسام کو بیان کرتے ہیں۔

ہجرت کی اقسام

قرآن مجید میں ہجرت کا لفظ تین مختلف نوعیت کی ہجرتوں کے لیے آیا ہے۔ ان سب کو ہم الگ الگ بیان کرتے ہیں۔

ایک ہجرت وہ ہے، جو قرآن میں رسولوں کے ایک مرحلۂ دعوت کے طور پر بیان ہوئی ہے۔ اگر رسول کی قوم اس پر ایمان نہ لائے تو وہ اپنی قوم پر اتمام حجت کرنے کے بعد، لازماً، اس سے ہجرت کر جاتا ہے۔ یہ ہجرت دراصل اپنی قوم سے اس کا اعلان براء ت ہوتی ہے۔ اس کے بعد اس قوم پر سے خدا کی امان اٹھ جاتی اور وہ خدا کے قانون مکافات کی زد میں آ جاتی ہے۔ رسولوں کی ہجرت اسی نوعیت کی ہوتی ہے۔ انھیں باقاعدہ اس کا حکم دیا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں کئی مقامات پر رسولوں کی اس ہجرت کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔ یہ ہجرت بس رسولوں ہی کے ساتھ خاص تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی اس کا مرحلہ آیا تھا۔ آپ نے مکہ سے مدینہ کی طرف جو ہجرت کی تھی، وہ یہی ہجرت تھی۔ آپ چونکہ آخری رسول تھے، لہٰذا، یہ ہجرت اب ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی ہے ۔

دوسری ہجرت وہ ہے، جس میں اسلامی حکومت اپنے بکھرے ہوئے شہریوں کو کسی دینی مقصد کے لیے یا قوم و ملک کے مفاد کی خاطر دوسرے علاقوں سے واپس آنے کا حکم دیتی ہے یہ ہجرت ایمان کا تقاضا نہیں ہے، بلکہ یہ اسلام کے قانون سیاست کا ایک حکم ہے۔ اس کا ذکر سورۂ انفال میں موجود ہے:

’’ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنھوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کیا اور وہ لوگ جنھوں نے پناہ دی اور مدد کی، یہی لوگ باہم دگر ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان تو لائے، لیکن انھوں نے ہجرت نہیں کی، تمھارا ان سے کوئی رشتۂ ولایت نہیں، تاآنکہ وہ ہجرت کریں اور اگر وہ دین کے معاملے میں تم سے طالب مدد ہوں تو تم پر مدد واجب ہے، الا آنکہ یہ مدد کسی ایسی قوم کے مقابل میں ہو جس کے ساتھ تمھارا معاہدہ ہو اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو، اس کو دیکھ رہا ہے۔‘‘ (۸: ۷۲)

ہجرت کی تیسری قسم وہ ہے جس میں ایک بندۂ مومن اپنے دین کو بچانے کے لیے ناموافق حالات سے موافق حالات کی طرف ہجرت کرتاہے۔ استاذ محترم جاوید احمد غامدی اس ہجرت کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’بندۂ مومن کے لیے اگر کسی جگہ اپنے پروردگار کی عبادت پر قائم رہنا جان جوکھم کا کام بن جائے؛ اسے دین کے لیے ستایا جائے ، یہاں تک کہ مسلمان کی حیثیت سے کھلا رہنا ہی اس کے لیے ممکن نہ رہے تو اس کا یہ ایمان اس سے تقاضا کرتا ہے کہ اس جگہ کو چھوڑ کر کسی ایسے مقام کی طرف منتقل ہو جائے جہاں وہ علانیہ اپنے دین پر عمل پیرا ہو سکے۔ قرآن مجید کی اصطلاح میں یہ ’’ہجرت‘‘ ہے اور اپنے آپ کو اس طرح کی صورت حال میں دیکھ کراور خدا اور اس کے رسول کی طرف سے اس کی دعوت کے باوجود اس سے گریز کرنے والوں کو اس نے جہنم کی وعید سنائی ہے۔‘‘ (دین حق۲۰)

اس تحریر میں ہجرت سے ہماری مراد یہی تیسری نوعیت کی ہجرت ہے۔ اس ہجرت کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

’’ہجرت اس وقت تک باقی رہے گی جب تک توبہ کی قبولیت کا وقت باقی رہے گا۔‘‘(مسند احمد۱/ ۱۹۲)

ہجرت کی حقیقت اور اس کی اہمیت

ہجرت کرنے والا شخص اپنے گھر، اپنے ماحول اور اپنے علاقے کو عملاً چھوڑ دیتا ہے۔ یہ چھوڑنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ انسان اپنی قوم اور اپنے وطن کے ساتھ نہ صرف اپنی ضروریات اور اپنے مفادات کے حوالے سے متعلق ہوتا ہے، بلکہ وہ ان کے ساتھ ایک فطری مناسبت اور قلبی لگاؤ بھی رکھتا ہے۔ وہ جس سرزمین میں پیدا ہوتا ہے، اسے مادر وطن کا نام دیتا ہے، جس قوم میں جنم لیتا ہے، اس کا فرزند کہلاتا ہے۔ وہ اپنے وطن پر فخر کرتا ہے، وطن کی مٹی سے محبت، اس کے لیے قربان ہونا، اس کی برتری اور اس کی عظمت کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینا، اس کے قومی وقار کا خاصہ ہوتا ہے۔ اپنے گرد و پیش سے محبت انسان کی سرشت میں داخل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی جگہ یا علاقے کو چھوڑنا، محض اس میں رہنے والے لوگوں، ان کی معاشرت، ان کا تمدن، ان کی تہذیب، اس علاقے میں موجود اپنے معاش کے ذرائع اور اپنے معاشرتی ڈھانچا ہی کو چھوڑنا نہیں ہوتا، یہ اس سرزمین کی مٹی ،اس کے پانی اور اس کی فضاؤں کوبھی غرض اس سرزمین کی ہر چیز کو چھوڑ دینا ہے۔

اس ہجرت کی سنگینی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جب کوئی شخص اس موڑ پر آن کھڑا ہو کہ اس کا ماحول اور اس کا معاشرہ، اس کے خدا اور اس کے مذہب ہی کو برداشت کرنے سے انکار کر دے، وہ اس ماحول میں خدا کی بات کسی دوسرے کو ماننے کے لیے کیا کہے، خود اس کے لیے خدا کی بات ماننا ناممکن ہو جائے، جب اسے اپنے ماحول میں ہر آزادی حاصل ہو، لیکن خداکا بندہ بن کر رہنے کی آزادی حاصل نہ ہو تو اس صورت حال میں اس بستی کو چھوڑ کر جانے والا، دراصل، اس کے رہنے والوں سے کوئی سرسری اورمعمولی نوعیت کی جدائی اختیارنہیں کرتا، وہ ان کے سب رشتوں اور سب تعلقات سے جدا ہوتا ہے، وہ ان کے ذہن اور ان کی سوچ سے جدا ہوتا ہے، وہ ان کے دل اور ان کے جذبات سے جدا ہوتا ہے، غرض وہ ان سے بالکل ہی کٹ جاتا ہے۔

اس ہجرت ہی کی سختی کے ایک اور پہلو کو دیکھیے۔ انسان اپنے گھر اور اپنے ماحول کو یا دوسرے لفظوں میں اپنے وطن اور اپنی قوم کو چھوڑنے کے بعد بالکل بے سہارا ہو جاتا ہے۔ اسے گویا نئے سرے سے جنم لینا پڑتا ہے۔ اس صورت حال کو یہ چیز مزیدسنگین بنا دیتی ہے کہ اس پر اپنی اور اپنے کنبے کی ذمہ داریاں بدستور قائم ہوتی ہیں۔ وہ جس علاقے میں جاتا اور جہاں بھی سکونت اختیار کرتا ہے، اسے نئے سرے سے اپنی زندگی کی ابتدا کرنی پڑتی ہے۔ دنیا کے اعتبار سے اسے ہر چیز نئے سرے سے حاصل کرنی پڑتی ہے، کیونکہ وہ اس ہجرت میں اپنا سب کچھ ترک کر چکا ہوتا ہے۔

کیا ہجرت میں انسان اپنا سب کچھ ترک کر دیتا ہے؟ نہیں، ایسا نہیں۔ ہجرت تو دراصل، ایک ترک اور ایک اختیار ہے۔ اس میں آدمی اپنے ماحول سے جدا ہوتا اور اپنے خدا سے جڑتا ہے۔ جو کچھ خدا کو ناپسند ہے، اس سے گریز کرتا اور جو کچھ اسے پسند ہے، اسے اختیار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے علاقے اور اپنے وطن سے جنھوں نے یہ ہجرت اختیار کی، انھوں نے ہمیشہ یہی اعلان کیا کہ ہم خدا کی طرف جا رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے سفر ہجرت کو خدا کی طرف سفر قرار دیا ہے اور اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ ہجرت کا سفر خدا ہی کی طرف ہوتا ہے۔ خدا پر حقیقی ایمان رکھنے والوں کو اگر ایک طرف دنیا بلائے اور دوسری طرف ان کا خدا، تو وہ خداہی کی طرف دوڑیں گے۔ اس لیے کہ وہ جیسا خدا سے تعلق رکھتے ہیں، ویسا دنیا سے نہیں رکھتے۔ جیسا اس پر یقین اور اس پر ایمان رکھتے ہیں، ویسا ایمان و یقین وہ کسی اور چیز پر نہیں رکھتے۔ خدا پر ایمان مومن کی سب سے بڑی متاع ہے۔ یہی اس کے لیے سب سے بڑی قوت ہے۔ اس کے ہاں دنیا کی سب چیزوں سے زیادہ اہم اگر کوئی چیز ہے تو وہ ایمان ہے اور سب چیزوں پر بھاری اور سب سے زیادہ وزن رکھنے والی اگر کوئی چیز ہے تو وہ ایمان ہے۔ کوئی ایک چیز کیا، دنیا کا سب کچھ بھی اگر اس کے مقابل میں آ جائے تو مومن کے ترازو میں وہ اپنا وزن ہی کھو دیتا ہے۔ اگر کسی شخص کے ہاں ایسے موقع پر دنیا اس کے ایمان پر بھاری ہو گئی تو اس نے خود اپنے ایمان کے خلاف گواہی دے دی اور خود ہی خسارے کی راہ پر چل پڑا۔

جب کوئی مومن اپنے ماحول کے جبر کی بنا پر ہجرت کرتا ہے تو وہ اپنے عمل سے یہ بات ثابت کر دیتا ہے کہ اس کے نزدیک خدا سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں، وہ اس کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر سکتا ہے۔ وہ بتا دیتا ہے کہ خدا پر ایمان، اس کے ساتھ تعلق، اس کی محبت اور اس کا دین اگر حاصل ہو جائے تو اس کے مقابل میں آ کر دنیا کی ہر چیز اپنی اہمیت کھو دیتی ہے۔ ہر دوسری چیز کی اہمیت ایمان کے ساتھ ہے، اس کے بغیر نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے سورۂ نحل میں مہاجرین کی صفات بیان کی ہیں،فرمایا:

’’وہ مہاجرین جنھوں نے صبر کیا اور اپنے رب پر بھروسا رکھتے ہیں۔‘‘ (۱۶: ۴۲)

اس آیت میں ہجرت کرنے والے کی دو خاص خوبیاں بیان کی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ صبر کرتا ہے اور دوسرے یہ کہ وہ خدا پر بھروسا یعنی توکل کرتا ہے۔ مولانا امین احسن صاحب اصلاحی اس سلسلۂ کلام کی آیات کی شرح کرتے ہوئے، درج بالا آیتوں کے تحت لکھتے ہیں:

’’ان آیتوں سے ہجرت کی حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ ہر نقل مکان کو ہجرت نہیں کہتے۔ ہجرت یہ ہے کہ آدمی اپنے دین کے معاملے میں ستایا جائے یہاں تک کہ وہ اپنا محبوب وطن اور اپنا عزیز آشیانہ چھوڑ کر وہاں سے نکلنے اور دوسری سرزمین کو اپنی پناہ گاہ بنانے پر مجبور ہو جائے۔ اس راہ میں صبر کا مفہوم یہ ہے کہ خواہ اس کے سر پر آرے ہی کیوں نہ چل جائیں، لیکن دین حق کی جو نعمت اس کو مل چکی ہے وہ اس سے دست بردار ہونے پر آمادہ نہ ہو اور ’توکل‘ کا مفہوم یہ ہے کہ خواہ حالات کتنے ہی نامساعد کیوں نہ ہوں، لیکن وہ یہ اعتماد رکھے کہ اللہ اس کو تنہانہیں چھوڑے گا، بلکہ اس کی دست گیری فرمائے گا۔ یہی صبر و توکل ہجرت کی راہ میں زاد راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔‘‘ (تدبر قرآن ۴/ ۴۱۲)

ہجرت کا حکم

ہجرت کا حکم اس وقت نازل ہوا جب مکہ میں کفار قریش مسلمانوں کو اور خصوصاً کمزور اور غریب مسلمانوں کو اپنا دین چھوڑنے پر مجبور کر رہے تھے اور طرح طرح کی تکلیفیں دے رہے تھے۔ عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے:

’’سعید ابن جبیر نے عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا مشرکین اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیفیں پہنچانے میں اس حد کو جا پہنچے تھے کہ ان تکلیفوں کے سبب سے وہ اپنا دین ترک کرنے میں معذور سمجھے جا سکتے تھے؟ انھوں نے کہا: ہاں، خدا کی قسم، وہ ان میں سے کسی کو تو مارتے تھے، کسی کو بھوکا پیاسا رکھتے، یہاں تک کہ اس آفت کی سختی کے سبب سے وہ سیدھا بیٹھ نہ سکتا تھا۔ وہ اس سے جو چاہتے، کہلوا لیتے تھے۔ اس سے کہتے کہ اللہ نہیں، بلکہ لات و عزیٰ تیرے معبود ہیں تو وہ (جان چھڑانے کے لیے) ہاں کہہ دیتا۔ یہاں تک نوبت پہنچ گئی تھی کہ ان کے پاس سے گوبر کا کیڑا رینگتا ہوا گزرتا تو وہ اس سے کہتے کہ تیرا معبود تو یہ گوبر کا کیڑا ہے، اللہ تیرا معبود نہیں۔ وہ ان کی ان تکلیفوں سے چھوٹنے کے لیے، جن میں وہ حد سے بڑھ گئے تھے، ہاں کہہ دیتا تھا۔‘‘ (ابن ہشام ۱/ ۲۷۹)

جب مسلمانوں پر مکہ میں عرصۂ حیات تنگ ہو گیا، اور ان کے لیے مسلمان بن کر جینا نا ممکن ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنا دین بچانے کے لیے اس سر زمین سے ہجرت کر جانے کا حکم ان الفاظ میں دیا:

’’اے میرے بندو ، جو ایمان لائے ہو، میری زمین بڑی وسیع ہے، پس تم میری ہی بندگی بجا لاؤ۔ ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ پھر تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ اور جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، ہم ان کو جنت کے بالا خانوں میں متمکن کریں گے۔ اس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔ کیا ہی عمدہ اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے، ان لوگوں کے لیے جنھوں نے صبر کیا اور اپنے رب پر ہر حال میں بھروسا کرتے ہیں۔ اور کتنے ہی جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے۔ اللہ ہی ان کو رزق دیتا ہے اور تم کو بھی۔ اور وہ سب کچھ سننے وا لا،جاننے والا ہے۔‘‘(العنکبوت ۲۹: ۵۶۔۶۰)

مولانا امین احسن صاحب اصلاحی ان آیات کی شرح میں لکھتے ہیں:

’’…مظلوم مسلمانوں کو خطاب فرمایا… انداز خطاب میں بڑی دل نوازی ہے۔ فرمایا کہ اے میرے بندو، جو مجھ پر ایمان لائے ہو، اگر تم پر مکہ کی سر زمین تنگ کر دی گئی ہے تو تم مایوس اور دل شکستہ ہو کر میری بندگی کے عہد سے دست بردار نہ ہونا۔ بلکہ اپنے اس عہد پر جمے رہو۔ اگر یہ سر زمین تمھیں چھوڑنی پڑی تو اطمینان رکھو کہ میری زمین بہت کشادہ ہے، کوئی اور سر زمین تمھارا خیرمقدم کرے گی۔ ’فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ‘۔ بہرحال تم جمے رہوکہ میرے سواکسی اور کی بندگی کی ذلت گوارا نہ کرو گے۔ اگر میری خاطرتم اپنے گھروں کوچھوڑو گے تو تمھاری ذمہ داری میرے اوپر ہے اور میر ے پاس کسی چیز کی بھی کمی نہیں ہے۔

اس آیت سے چند باتیں نہایت واضح طور پر سامنے آگئیں۔

ایک یہ کہ کسی سر زمین سے ہجرت صرف اس وقت ضروری ہوتی ہے جب اس میں آدمی کے دین و ایمان کے لیے فتنہ پیش آ جائے۔

اگر فتنہ پیش آ جائے تو وہ ہرقیمت پر اللہ کی بندگی کے عہد پر قائم رہے، کسی صورت میں بھی غیراللہ کی بندگی کی ذلت گوارا نہ کرے۔

اگر اپنے ایمان کو بچانے کے لیے اپنا گھر در سب کچھ چھوڑنا پڑجائے تو سب کچھ چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہو۔ اللہ تعالیٰ رزاق وکفیل ہے۔

…یہ زندگی تو چند روزہ ہے۔ بالآخر ایک دن سب کو مرنا اور خدا ہی کی طرف لوٹنا ہے تو اس حیات چند روزہ کی خاطر آدمی اپنے رب سے کیوں شرم سار ہو! اپنے رب کی خاطر اس دنیا ہی پر کیوں نہ لات مارے!

… خدا کے ہاں کسی کی کوئی سعی رائگاں نہیں جائے گی۔ جو لوگ ایمان و عمل صالح کی زندگی بسر کریں گے، اللہ تعالیٰ ان کو جنت کے بالا خانوں میں فروکش کرے گا اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اس حیات چند روزہ کے ایمان اور عمل صالح کے بدلے جب یہ اجر دائمی و ابدی حاصل ہونے والا ہے تو یہ بہت بڑی چیز ہے۔ ہر عاقل کو اسی کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے، اس دنیا کے بڑے سے بڑے عیش کی خاطر بھی اس کو قربان نہیں کرنا چاہیے۔‘‘(تدبر قرآن ۶/ ۶۱)

ان آیات میں پروردگار نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ ہمارا یہ صلہ ہمارے کن بندوں کے لیے ہو گا۔ مولانا امین احسن اصلاحی انھی آیات کی شرح میں لکھتے ہیں:

’’ہمارا یہ صلہ ہمارے ان کارگزار بندوں کے لیے ہے جو ہر طرح کے حالات میں ہماری بندگی پر ثابت قدم اور اپنے رب پر بھروسا کرتے رہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اپنے رب پر یہ بھروسا ہی ہے جو ہر طرح کے حالات میں بندے کو خدا کی بندگی پر استوار رکھتا ہے۔ اگر یہ بھروسا نہ ہو تو ہجرت اور جہاد تو درکنار کوئی معمولی آزمایش بھی آدمی برداشت نہیں کر سکتا۔‘‘(تدبر قرآن ۶/ ۶۲)

آخری آیت میں اللہ تعالیٰ نے نہایت بلیغ انداز میں اپنے بندوں کو یہ تسلی دلائی ہے کہ اس بات کا فکر نہ کریں کہ وہ کھائیں گے کہاں سے، اللہ تعالیٰ ہی سب کا رازق ہے۔

مولانا امین احسن اصلاحی اس آخری آیت کی شرح میں لکھتے ہیں:

’’جس طرح خدا کی زمین بہت کشادہ ہے، اسی طرح خدا کا خوان کرم بھی بہت کشادہ ہے۔ اگر اللہ کی راہ میں اموال و جائداد سے دست بردار ہونا پڑ جائے تو بے درنگ ہاتھ جھاڑ کے اٹھ کھڑے ہونا۔ یہ نہ سوچنا کہ آگے کیا کھائیں گے اور کہاں سے پہنیں گے؟ دیکھتے ہو کہ اس زمین میں کتنے جان دار ہیں، جو اپنے ساتھ اپنی روزی باندھے نہیں پھرتے تاہم ان کا رب ان کو ان کا رزق بہم پہنچاتا ہے۔ وہی رب ان کو بھی رزق دیتا ہے، وہی تم کو بھی رزق دیتا ہے۔ وہ سمیع و علیم ہے۔ اس وجہ سے ہر ایک کی فریاد سنتا اور ہر ایک کی ضرورت کو جانتا ہے۔ اس بات کا کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ تم اس کو پکارو گے اور وہ بے خبر رہے گا یا تم حاجت مند ہو گے اور وہ تمھاری پریشانی سے نا واقف ہوگا۔‘‘ (تدبر قرآن ۶/ ۶۲)

خدا پر یہ اعتماد ہی مومن کا اصل سرمایہ ہے۔ یہی اعتماد اسے وہ قوت دیتا ہے، جس کے بل بوتے پر ایک ہجرت کیا، وہ دنیا کا ہر کام کر سکتا ہے، ساری دنیا بھی اس کے مقابل پر آ جائے تو اس کے ثبات قدم میں لغزش نہ آئے گی۔ خدا پر اسی اعتماد اور اسی بھروسے کو حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے ایک نہایت دل نشیں وعظ میں یوں بیان فرمایا ہے:

’’تم خدا اور دولت، دونوں کی خدمت نہیں کر سکتے۔ اس لیے میں تم سے کہتا ہوں کہ اپنی جان کی فکر نہ کرنا کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے؟ اور نہ اپنے بدن کی کہ کیا پہنیں گے؟ کیا جان خوراک سے اور بدن پوشاک سے بڑھ کر نہیں؟ ہوا کے پرندوں کو دیکھو کہ نہ بوتے ہیں نہ کاٹتے۔ نہ کوٹھیوں میں جمع کرتے ہیں تو بھی تمھارا آسمانی باپ (ربکم السماوی الاحد) ان کو کھلاتا ہے۔ کیا تم ان سے زیادہ قدر نہیں رکھتے؟ تم میں ایسا کون ہے جو فکر کر کے اپنی عمر میں ایک گھڑی بھی بڑھا سکے؟ اور پوشاک کے لیے کیوں فکر کرتے ہو؟ جنگلی سوسن کے درختوں کو غور سے دیکھو کہ وہ کس طرح بڑھتے ہیں۔ وہ نہ محنت کرتے نہ کاتتے ہیں۔ تو بھی میں تم سے کہتا ہوں کہ سلیمان بھی باوجود اپنی ساری شان و شوکت کے ان میں سے کسی کی مانند ملبس نہ تھا۔ پس جب خدا میدان کی گھاس کو جو آج ہے کل تنور میں جھونکی جائے گی ایسی پوشاک پہناتا ہے تو اے کم اعتقادو، تم کو کیوں نہ پہنائے گا؟ اس لیے فکر مند ہو کر یہ نہ کہو کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے یا کیا پہنیں گے؟ کیوں کہ ان سب چیزوں کی تلاش میں غیر قومیں (کافر قومیں) رہتی ہیں اور تمھارا آسمانی باپ (ربکم السماوی الاحد) جانتا ہے کہ تم ان سب چیزوں کے محتاج ہو۔ بلکہ تم پہلے اس کی بادشاہی اور اس کی راست بازی کی تلاش کرو تو یہ سب چیزیں بھی تم کو مل جائیں گی۔ پس کل کے لیے فکر نہ کرو کیونکہ کل کا دن اپنے لیے آپ فکر کرلے گا۔ آج کے لیے آج ہی کا دکھ کافی ہے۔‘‘ (متی ۶: ۲۵۔۳۴)

ہجرت سے گریز کرنے والوں کو تنبیہ

اس ہجرت کا موقع آ جانے کے بعد اس سے گریز کرنے والوں کا کیا معاملہ ہے؟ آخرت میں ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟ قرآن مجید نے اس کو بہت اچھی طرح واضح کیا ہے تاکہ جسے عبرت پکڑنی ہو، وہ ضرور عبرت پکڑے۔ فرمایا:

’’جن لوگوں کی روحیں فرشتے اس حال میں نکالیں گے کہ (کافروں میں پڑے رہنے کی وجہ سے) وہ اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے ہوئے تھے، ان سے پوچھیں گے، یہ تم کس حال میں پڑے رہے، وہ جواب دیں گے: ہم اس ملک میں مجبور اور بے بس تھے۔ فرشتے کہیں گے: کیا اللہ کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے؟ یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اور وہ بڑا ہی برا ٹھکانا ہے۔‘‘ (النساء ۴: ۹۷)

یعنی وہ لوگ جو کافروں میں پڑے رہنے کی وجہ سے کفر کے ساتھ صلح کیے ہوئے تھے، حتیٰ کہ ان کے نزدیک خدا کی فرماں برداری کوئی اہم چیز ہی نہ رہی تھی اور وہ اس کی نافرمانی کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہ کرتے تھے، ان سے جب فرشتے موت کے وقت یہ پوچھیں گے کہ تم خدا کو جاننے کے باوجود کیسی زندگی بسر کرتے رہے تو وہ جواب دیں گے: ہم اپنے ملک میں کمزور اور بے بس لوگ تھے، ہم طاقت وروں سے مقابلہ کر کے اپنے ایمان کے مطابق زندگی بسر نہیں کر سکتے تھے۔ تو فرشتے ان سے کہیں گے: کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی؟ تم اپنے ایمان پر قائم رہنے کی خاطر ایسی جگہ ہجرت کیوں نہ کر گئے؟ جس حالت کو تم جا پہنچے ہو اس کو تم نے گوارا کیسے کر لیا؟ کوئی صاحب ایمان تو یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ وہ کافروں سے صلح کر لے، خارج کے دباؤ کو دل کی خواہش بنا لے۔ ایمان کا تقاضا تو یہ ہے کہ جب کسی ماحول میں دین پر عمل کرنا انسان کے لیے ناممکن ہو جائے تو وہ اس کو چھوڑ دے اور اس جگہ ہی سے ہجرت کر جائے۔ جو شخص یہ ہجرت نہیں کرتا اور اس ماحول سے صلح کر لیتا ہے، پروردگار فرماتا ہے کہ اس شخص کا ٹھکانا جہنم ہو گا۔ جب انسان کا ماحول اس کے لیے خدا کی بندگی ناممکن بنا دے تو اس وقت ہجرت کا یہ تقاضا اتنی اہمیت اختیار کر لیتا ہے کہ اسے پورا کیا جائے تو آدمی کا ایمان و اسلام ثابت ہوتا اور باقی رہتا ہے اور پورانہ کیا جائے تو وہ اپنے ایمان و اسلام ہی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔

حالات کی مجبوری ایک اہم چیز ہے۔ہر معاملے میں اسے بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ کوئی واقعہ کن حالات میں پیش آیا، کوئی کام کس صورت حال میں کیا گیا، کیا کچھ اس میں کرنا ممکن تھا اور کیا کچھ نہیں۔ یہ سب باتیں ہر معاملے اور ہر چیز میں ہمیشہ دیکھی جاتی ہیں۔ لیکن انسان کسی علاقے میں رہتا ہو اور وہاں اس کے لیے اپنے دین ہی پر عمل کرنا ممکن نہ ہو، تو پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ وہاں رہتا ہی کیوں ہے؟ کیا اسے کوئی مجبوری ہے؟ کیا وہ معذور ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر یہ بات جان لینی چاہیے کہ انسان تو اس دنیا میں آیا ہی اس لیے ہے کہ وہ خدا کی بندگی کرے، اس کے احکام مانے، اپنی پسندیدہ نہیں، اس کی پسندیدہ زندگی بسر کرے۔ چنانچہ اگر کسی شخص کو اس کا ماحول اس چیز کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ خدا کی بات مانے، اس کے دین پر عمل کرے، اس کی پسندیدہ زندگی بسر کرے تو انسان اس ماحول میں کیوں رہے۔ وہ اپنے ماحول اور اپنی فضا کو کیوں نہ بدلے۔ وہ حالات اور ماحول کو خدا کی بندگی سے گریز کا بہانہ کیوں بننے دے۔ وہ ایسے حالات کو چھوڑ ہی کیوں نہ دے۔ کیا اسے خدا سے محبت نہیں ہے، کیا وہ اسے اپنا خالق نہیں مانتا، کیا وہ اس کا رب نہیں ہے، کیا اس کے سامنے اسے پیش نہیں ہونا۔ جب یہ سب کچھ ہے اور یقیناًہے، تو اسے لازماً، ایسی جگہ سے ہجرت کر جانی چاہیے، جہاں اس کے لیے اپنے رب کی بندگی ممکن نہ ہو، لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتا اور اس مسئلے کو کوئی مسئلہ ہی نہیں سمجھتا، اس سے یکسر لاپروائی کرتا ہے۔ فرماں برداری ممکن نہیں تو نافرمانی ہی سہی، اطاعت ممکن نہیں تو سرکشی ہی سہی۔ اس کے لیے یہ دونوں چیزیں برابر ہوتی ہیں تو پھر وہ اپنے بارے میں یہ بتا دیتا ہے کہ خدا کی وہ فرماں برداری، وہ اطاعت اور وہ بندگی جو اس نے کبھی کی ہے، اسے یہ معنی نہ دیے جائیں کہ وہ اس کے لیے کوئی ایسی لازمی چیز تھی، جس پر اسے بہت اصرار ہو اور جس کے لیے وہ ہر قدم اٹھا سکتا ہو۔ خداعظیم ذات ضرور ہے، اس سے کیا انکار، لیکن کیا اس کی عظمت کے یہ معنی ہیں کہ انسان اس کے لیے اپنا گھر بار، کاروبار، دوست احباب، عزیز رشتہ دار، ہر کسی سے غیر متعلق ہو جائے، سب کو چھوڑ دے۔ نہیں، ایسا نہیں۔ خدا کی اتنی اہمیت نہیں۔ نعوذ باللہ۔ خدا ایسے لوگوں سے بیزار ہے۔ وہ ان کے بارے میں کہتا ہے:

’’یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بڑا ہی برا ٹھکانا ہے۔‘‘

____________

Advertisements