اپنے دل مضطر کو بیتاب ہی رہنے دو

's Photo'

ظفر حمیدی

 1926-

مظفرپور

اپنے دل مضطر کو بیتاب ہی رہنے دو

چلتے رہو منزل کو نایاب ہی رہنے دو

تحفے میں انوکھا زخم حالات نے بخشا ہے

احساس کا خوں دے کر شاداب ہی رہنے دو

وہ ہاتھ میں آتا ہے اور ہاتھ نہیں آتا

سیماب صفت پیکر سیماب ہی رہنے دو

گہرائی میں خطروں کا امکاں تو زیادہ ہے

دریائے تعلق کو پایاب ہی رہنے دو

یہ مجھ پہ کرم ہوگا حصے میں مرے اے دوست

اخلاص و مروت کے آداب ہی رہنے دو

ابہام کا پردہ ہے تشکیک کا ہے عالم

تم ذوق تجسس کو بیتاب ہی رہنے دو

مت جاؤ قریب اس کے تم ایک گہن بن کر

آنگن میں اسے اپنا مہتاب ہی رہنے دو

جب تک وہ نہیں آتا اک خواب حسیں ہو کر

تم اپنے شبستاں کو بے خواب ہی رہنے دو

وہ برف کا تودہ یا پتھر نہیں بن جائے

ہر قطرۂ اشک غم سیلاب ہی رہنے دو

وہ بحر فنا میں خود ڈوبا ہے تو اچھا ہے

فی الحال ظفرؔ اس کو غرقاب ہی رہنے دو