میرا جسم میری مرضی

نوجوان کے مسلسل گھورنے سے قباحت سی محسوس ہوئی تو ساتھ والی سیٹ پہ بیٹھی ہوئی بزرگ عورت سے مخاطب ہوکر بولی؛
“یہ بے حیا مرد مُجھے پچھلے آدھے گھنٹے سے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر مسلسل گھورے جا رہا ہے“
بوڑھی اماں نے ایک لمبی سانس لی اور بڑے اطمینان سے بولی؛
”بیٹا یہ وہی دیکھ رہا ہے جو دکھانے کے لئے تُم نے اتنا چُست لباس پہن رکھا ہے. “

موصوفہ ایک بار پھر تلملا اُٹھی اور گرج دار آواز میں کہنے لگی؛
“میرا جسم میری مرضی”
بُزرگ عورت حماقت پر مبنی اس جملے کو سُن کر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور کہنے لگیں؛
” اگر تُمہارا جسم تُمہاری مرضی ہے تو اُس نے کونسا آنکھیں بینک سے قرضے میں لے رکھی ہیں!
“اُسکی آنکھیں اُسکی مرضی.

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ يَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ مومنوں کو ہدایت کرو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی پردہ پوشی کریں۔ یہ طریقہ ان کے لیے پاکیزہ ہے۔ بے شک اللہ باخبر ہے ان چیزوں سے جو وہ کرتے ہیں۔ سورہ نور آیت 30