علامہ عنایت اللہ مشرقی کی دل چسپ روایت

ء”1909 ء کا ذکر ہے،اتوار کا دن تھا،اور زور کی بارش ہو رہی تھی،میں کسی کام سے باہر نکلا تو جامعہ کیمرج کے مشہور ماہر فلکیات سر جیمز جینس پر نظر پڑی جو بغل میں انجیل دبائے چرچ کی طرف جا رہے تھے،میں نے قریب ہو کر سلام کیا،انہوں نے کوئی جواب نہ دیا،دوبارہ کیا تو وہ متوجہ ہوئے اور کہنے لگے،تم کیا چاہتے ہو؟میں نے کہا:دو باتیں،اول یہ کہ زور سے بارش ہو رہی ہے اور آپ نے چھاتا بغل میں داب رکھاہے،سر جیمز اپنی بدحواسی پر مسکرائے اور چھاتا تان لیا،دوم یہ کہ آپ جیسا شہرہ آفاق آدمی گرجا میں عبادت کے لیے جا رہا ہے،یہ کیا؟ میرے اس سوال پر پروفیسر جیمز لمحہ بھرکے لیے رک گئے اور پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا”آج شام کو چائے میرے ساتھ پیو” چنانچہ میں شام کو ان کی رہائش گاہ پہچا،ٹھیک 4 بجے لیڈی جیمز باہر آ کر کہنے لگیں ” سر جیمز تمہارے منتظر ہیں ” اندر گیا تو ایک چھوٹی سی میز پر چائے لگی ہوئی تھی،پروفیسر صاحب تصورات میں کہوئے ہوئے تہے،کہنے لگے ” تمہارا سوال کیا تہا ” اور میرے جواب کا انتظار کیے بغیر اجرام آسمانی کی تخلیق،ان کے حیرت انگیز نظام،بے انتہا پنہائیوں اور فاصلوں،ان کی پیچیدہ راہوں اور مداروں،نیز باہمی کشش اور طوفان ہائے نور پر وہ ایمان افروز تفصیلات پیش کیں کہ میرا دل اللہ کی اس داستان کبریا و جبروت پر دہلنے لگا،اور ان کی اپنی کیفیت یہ تہی کہ سر کے بال سیدہے اٹہے ہوئے تہے،آنکہوں سے حیرت و خشیت کی دو گونہ کیفتیں عیاں تہیں،اللہ کی حکمت و دانش کی ہیبت سے ان کے ہاتہ قدرے کانپ رہے تہے،اور آواز لرز رہی تہی،فرمانے لگے” عنائت اللہ خان ! جب میں خدا کی تخلیقی کارناموں پر نظر ڈالتا ہوں تو میری تمام ہستی اللہ کے جلال سے لرز نے لگتی ہے،اور جب کلیسا میں خدا کے سامنے سرنگوں ہو کر کہتا ہوں ، تو بہت بڑا ہے ، تو میری ہستی کا ہر زرہ میرا ہم نوا بن جاتا ہے،مجہے بے حد سکون اور خوشی نصیب ہوتی ہے، مجہے دوسروں کی نسبت عبادت میں ہزار گنا زیادہ کیف ملتا ہے،کہو عنائت اللہ خاں ! تمہاری سمجہہ میں آیا کہ میں گرجے کیوں جاتا ہوں “-علامہ مشرقی کہتے ہیں کہ پروفیسر جیمز کی اس تقریر نے میرے دماغ میں عجیب کہرام پیدا کر دیا،میں نے کہا “جناب والا ! میں آپ کی روح افروز تفصیلات سے بے حد متاثر ہوا ہوں، اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یاد آگء،اگر اجازت ہو تو پیش کروں،فرمایا ” ضرور “چنانچہ میں نے یہ آیت پڑہی: اور پہاڑوں میں بہی سفید اور سرخ مختلف رنگوں کے ٹکڑے ہیں اور گہرے سیاہ بہی-اور اسی طرح انسانوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بہی مختلف رنگ کے ہیں-اللہ سے اس کے بندوں میں سے صرف وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں-(27-28 فاطر۔یہ آیت سنتے ہی پروفیسر جیمز بولے:” کیا کہا؟اللہ سے صرف اہل علم ڈرتے ہیں،حیرت انگیز،بہت عجیب،یہ بات جو مجہے پچاس برس مسلسل مطالعہ و مشاہدہ کے بعد معلوم ہوئی،محمد ۰ﷺ) کو کس نے بتائی،کیا قرآن میں واقعی یہ آیت موجود ہے،اگر ہے تو میری شہادت لکھ لو کہ قرآن ایک الہامی کتاب ہے،محمد ص بڑھے لکھے نہیں تھے ، ان کو یہ عظیم حقیقت خود بخود معلوم نہیں ہو سکتی،اسے یقیناًاللہ نے بتائی تہی،بہت خوب ،بہت عجیب……”(مذہب اور جدید چیلنج

سنت کیا ہے؟

:سوال

سنت کیا ہے؟ اس کی کچھ وضاحت فرما دیجیے۔

:جواب

سنت عربی زبان کا ایک عام لفظ ہے جس کا لفظی مطلب راستہ یا طریقہ ہے ۔اس لفظ کے وجود میں آنے کاپس منظریہ ہے کہ میدانوں ، جنگلوں وغیرہ سے لوگ ایک دوسرے کے نقش قدم پر جب مسلسل گزرتے ہیں تو ایک پامال اور مستقل راستہ وجود میں آ جاتا ہے ۔یہ لفظ اسی راستے کے لیے بولا جاتا ہے ۔دینی علم میں جب یہ اصطلاح استعمال کی جاتی ہے تو اس کا اطلاق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے ، اعمال اور عادات پر کیا جاتا ہے ۔ اہلِ علم سنت کی ایک تقسیم سننِ ہدیٰ اور سننِ زوائد کے اعتبار سے کرتے ہیں ۔ ان کے نزدیک سننِ ہدیٰ وہ مشروع امور ہیں جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شارع کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے ۔ خواہ ان کا حکم وجوب کے درجے میں ہو يا استحباب کے درجے میں ۔جبکہ سننِ زوائد وہ امور ہیں جنہیں حضور نے اپنے زمانے اور حالات کے پس منظر میں اختیار فرمایا۔ ان میں حضور کا لباس، آپ کی وضع قطع اور رہن سہن وغیره شامل ہیں ۔ کچھ اہلِ علم احادیث یعنی اخبارآحاد کو بھی سنت میں شامل کرتے ہیں ۔

:استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے سنت کی تعریف اس طرح کی ہے

’’سنت سے ہماری مراددین ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تجدیدو اصلاح کے بعداوراس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے ۔‘‘ ، (میزان ، ص14)

یہ الفاظ کے فرق کے ساتھ وہی چیز ہے جسے اوپر سننِ ہدیٰ کے نام سے بیان کیا گیا ہے ۔اس تعریف میں صرف یہ بات اضافی طور پر بیان کی گئی ہے کہ تاریخی طور پر ان سنن کا آغاز سیدنا ا ابراہیم ؑ سے ہوا۔یہ سنن ایک دینی روایت کے طور پر حضور کی بعثت سے قبل ہی ان کی اولاد بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل میں موجود تھیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے حکم سے ان میں پیدا ہونے والی بدعات کو ختم کیا، بعض چیزوں میں تبدیلی و اضافہ کیا اور کچھ نئی چیزیں بھی جاری کیں۔ تب سے اب تک یہ ہمارے درمیان دین کے دوسرے ماخذ کے طور پر موجود ہیں ۔ اور سارے دین کا یہ عملی حصہ ہم تک صحابۂ کرام کے اجماع اور عملی تواتر سے منتقل ہوا ہے۔

 

Rehan Ahmed Yusufi

 

شورائی اجتہاد

عالم اسلام میں سب سے زیادہ قبولیت عامہ جس فقہ کو حاصل ہوئی وہ حنفی فقہ ہے ۔ اس کی دیگر وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ امام ابو حنیفہ کا شورائی اجتہاد کا طریقہ ہے ۔ اس طریقۂ اجتہاد میں مختلف صلاحیتوں کے حامل اذہان ایک مسئلہ کے ہر رخ پر سیر حاصل بحث کرتے ہیں جس کے نتیجے میں غلطی کا امکان کم سے کم رہ جاتا ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب مختلف میلانات و رجحانات کی حامل شخصیات کسی معاملہ پر بحث کرتی ہیں تو فیصلہ متوازن اور معتدل نقطۂ نظر پر ہوتا ہے اور متوازن بات کو عملی زندگی میں خود بخود شرف قبولیت حاصل ہو جاتا ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ امام شافعی کے استاد امام وکیع بن الجراح امام ابوحنیفہ کے فیصلوں کے بارے میں کہاکرتے تھے:

”امام ابو حنیفہ (کے اجتہادی کام میں) غلطی کیسے ہو سکتی ہے ، جبکہ ان کے ساتھ قیاس و اجتہاد میں ابو یوسف ، زفر اور محمد جیسے لوگ تھے ۔ یحییٰ بن زائدہ، حفص بن غیاث اور علی کے دونوں بیٹوں حبان اور مندل جیسے حفاظ اور ماہر حدیث شریک مجلس ہوتے اور لغت عربی کے ماہر قاسم بن معن یعنی ابن عبد الرحمن بن عبد اللہ بن مسعود اور داؤد بن نصیر طائی اور فضیل بن عیاض جیسے زہد و تقویٰ رکھنے والے حضرات وہاں موجود ہوتے تھے ۔جس شخص کے رفقاے کار ایسے ہوں ، وہ ہر گز غلطی نہیں کر سکتا ، کیونکہ اگر وہ غلطی کرتے تو یہ لوگ یقیناًاس کو حق کی طرف واپس لے آتے ۔ ” (جامع المسانید ۱/ ۳۳)

عہد صحابہ و تابعین میں شورائی اجتہاد

قبل اس کے کہ امام ابو حنیفہ کے شورائی اندازِ اجتہاد پر بات کی جائے ، ضروری محسوس ہوتا ہے کہ اس طریقۂ اجتہاد کے بارے میں احادیث و آثار صحابہ میں جو نظائر ملتے ہیں ، ان کا مختصر ذکر کردیا جائے ۔

حضرت میمون بن مہران حضرات ابوبکر و عمر کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ جب بھی ان کے ہاں کوئی اختلافی معاملہ پیش آتا جس کے بارے میں قرآن و سنت میں کوئی صراحت نہ ہوتی تو آپ فقہا صحابہ کے مشورے سے اس کا فیصلہ صادر فرماتے ۔ ۱؂

شیخین کا یہ طریقۂ اجتہاد رسول اللہ کے اس ارشاد سے مطابقت رکھتا ہے کہ جب حضرت علی نے سوال کیا کہ اگر کسی مسئلے میں کتاب و سنت میں صریح نص نہ ملے تو پھر ہم کیا کریں آپ نے فرمایا :

”ماہرین شریعت اور عبادت گزار لوگوں سے مشورہ کرو اور انفرادی رائے کو اختیار نہ کرو۔ ” (مجمع الزواید ۱ /۱۷۸ )

ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس کے سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا تھا :

”(غیر منصوص) معاملات کو عبادت گزار مومنین کی شوریٰ کے حوالے کرو اور انفرادی رائے پر کوئی فیصلہ مت کرو۔ ”(مجمع الزواید ۱ /۱۷۸ )

شیخین کے اس طرز عمل میں قرآن مجید کے ارشادات وشاورھم فی الامراور وامر ھم شوریٰ بینھم کی اتباع بھی ملحوظ تھی ۔

حضرت ابوبکر کا معمول ان الفاظ میں بیان ہوا ہے :

”وہ سرداران قوم اور ان کے بہترین لوگوں کو جمع کر کے ان سے مشورہ طلب کرتے ۔ بحث سے جب کسی رائے پر متفق ہو جاتے تو اس کے مطابق فیصلہ کر دیتے۔” (دارمی ۱/ ۵۸ )

”کنز العمال” میں ا س کے ساتھ یہ روایت بھی ہے کہ: وکذالک یفعل عمر ۔ ۲؂

صحاح ستہ میں بہت سی روایات موجود ہیں کہ حضرت عمر کے ہاں باقاعدہ اہل شوریٰ کا اجتماع ہوتا اور پوری بحث و تمحیص کے بعد کوئی متفقہ بات طے پاتی تو اسے نافذ کر دیا جاتا ، جیسے مال غنیمت کے بارے میں بحث ہوئی ۔ حضرت عمر اپنے گورنروں کو بھی اسی طریقۂ کار پر عمل کرنے کی نصیحت کرتے تھے ۔ ایک موقع پر حضرت شریح سے فرمایا : قرآن مجید میں جس حکم کی صراحت ہے ، اس کے متعلق کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ۔ لیکن جس حکم کی صراحت نہیں ہے ، اس کے لیے حدیث کی طرف رجوع کرنا ، اگر اس میں بھی اس کی صراحت نہ ہو تو اس معاملہ میں اجتہاد کرو اور اہل علم افراد سے مشورہ کر لو ۔ ایک روایت میں ہے کہ ا س پر موجود علما سے مشورہ کرو۔ ۳؂

علامہ الجوینی فرماتے ہیں کہ صحابۂ کرام عام فیصلوں ، فتاویٰ اور واقعات کے بارے میں تحقیق سے کام لیتے تھے ۔ چنانچہ کسی معاملہ میں اگر قرآن میں صراحت نہ ہوتی تو سنت کی طرف رجوع کرتے اور اگر سنت میں بھی اس کا کوئی حل نہ ملتا تو اجتہاد کرتے اور مشورے کرتے ۔ وہ اسی طریقے پر کاربند رہے اور ان کے بعد تابعین نے بھی اس طریقہ پر عمل کیا ۔ ۴؂

اسی طریقہ کی پیروی حضرت عمر بن عبد العزیز نے کی ۔ بیان کیا جاتا ہے کہ جب وہ مدینہ کے گورنر ہوئے تو مروان کے گھر میں دس ممتاز فقہا کو مدعو کیا جن میں عروہ بن زبیر ، عبد اللہ بن عتبہ ، ابوبکر بن عبد الرحمن ، ابوبکر بن سلیمان ، سلیمان بن یسار ، قاسم بن محمد، سالم بن عبد اللہ بن عمر ، عبد اللہ بن عبد اللہ بن عمر ، عبد اللہ بن عامر اور خارجہ بن زید شامل تھے ۔ ان کے جمع ہونے پر فرمایا: ”میں نے آپ حضرات کو جس کام کے لیے زحمت دی ہے ، ان شا اللہ آپ عند اللہ مامور ہوں گے ، نیز حق کے معاونین میں آپ کا شمار ہو گا ۔ میرا ارادہ یہ ہے کہ آپ لوگوں کی رائے اور مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کروں ۔ ” ۵؂

اندلس میں اموی قاضی القضاۃ یحییٰ بن یحییٰ اللبثی نے بھی فقہی مسائل پر غور و خوض کے لیے ایک مجلسِ شوریٰ بنائی ہوئی تھی جس کے ممبران کی تعداد کبھی کبھی سولہ تک ہو جاتی تھی ۔ ۶؂

امام ابو حنیفہ کی مجلس تشریح اسلامی

خلافت علی منہاج النبوۃ کے خاتمے کی وجہ سے حکمرانوں کی طرف سے شرعی مسائل کی تحقیق کے لیے شورائی نظام قائم کر کے مسائل طے کرنے کا اہتمام نہ رہا تو عند الضرورت فقہا و مجتہدین کے ہاں انفرادی اجہتاد کا سلسلہ شروع ہوا اور ہر مجتہد وفقیہ اجتہادی مسائل میں اپنی شخصی رائے سے فیصلہ کرنے لگا ۔ اور اس کے معتقدین و تلامذہ اس کے علم و تقویٰ اور اجتہاد ی اہلیت کی بنا پر اعتماد کر کے اس شرعی حکم کی پیروی کرتے ۔ ان حالات میں امام ابو حنیفہ نے غیر سرکاری طور پر اپنے تلامذہ و مسترشدین کے حلقہ میں مسائل شرعیہ کی تحقیق کے لیے باقاعدہ ایک اجتماعی شورائی نظام قائم کیا۔ خلافت عباسیہ کے قیام کے بعد امام ابوحنیفہ حجاز مقدس سے اپنے شہر کوفہ آئے اور یہاں شریعت اسلامی کو باقاعدہ ضابطۂ قانون کے قالب میں ڈھالنے کے لیے وضع قانون کی ایک مجلس شوریٰ قائم کی جس کے رئیس وہ خود تھے ۔ آپ کے سوانح نگار موفق لکھتے ہیں :

”پھر امام ابو حنیفہ نے اپنے مکتب فکر کو باہمی مشاورت پر استوار کیا۔ ارکان شوریٰ سے الگ رائے کے ساتھ تدوین کو وابستہ نہیں کیا۔ ” (موفق ۲/ ۱۲۳)

اس مجلس میں فقہی مسائل کو زیر بحث لانے اور فیصلہ کرنے کا طریقہ یوں بیان ہوا ہے :

”وہ اس مجلس میں ایک مسئلہ پیش کرتے ۔ لوگوں کے خیالات و معلومات کو الٹ پلٹ کر معلو م کرتے ، ان کی باتیں سنتے اور جو علم انھیں خود ہوتا ، اسے بیان کرتے ۔ اہل مجلس سے مناظرہ کرتے جو مہینا مہینا بھر یا اس سے بھی زیادہ مدت جاری رہتا ، یہاں تک کہ مسئلے کا کوئی ایک پہلو متعین ہو جاتا اور مسئلہ طے ہو جاتا ۔ ” (موفق ۲/ ۱۳۳)

حضرت عبد اللہ بن مبارک کے حوالے سے موفق نے یہ نقل کیا ہے کہ ایک فقہی مسئلہ اس مجلس میں بحث کے لیے پیش ہوا تو تین دن تک ارکان مجلس اس ایک مسئلے پر غوروخوض کرتے رہے ۔ مشہور محدث سلیمان اعمش نے اس مجلس کے طریق کار اور تحقیقی انداز کی بہت خوب صورت تصویر کشی کی ہے ، فرمایا : جب اس مجلس کے سامنے کوئی مسئلہ پیش ہوتا تو ارکان مجلس اس مسئلے کو گردش دیتے رہتے۔ (یعنی سب اپنی اپنی دلیلیں باری باری دیتے ) بالآخر اس کو خوب روشن اور واضح کر دیتے ہیں ۔

اس مجلس میں ہرفرد کو اپنی رائے اور اس کی دلیل پوری آزادی کے ساتھ پیش کرنے کی آزادی تھی ۔ اس بارے میں ابوسلیمان جوزجانی ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں امام صاحب کی مجلس میں حاضر تھا کہ ایک نوجوان نے حضرت امام سے ایک سوال کیا ۔ آپ نے اس کا جواب دیا ۔ جواب سنتے ہی اس نوجوان نے بے دھڑک حضرت امام کو مخاطب کر کے کہا: آپ نے غلطی کی ۔ اس طرز گفتگو کو دیکھ کر میں حیران ہوا اور اہل مجلس کو کہا کہ بڑے تعجب کی بات ہے کہ تم لوگ اپنے استاد کا احترام نہیں کرتے ۔ اس کے جواب میں فوراً ہی خود امام صاحب نے فرمایا :تم ان لوگوں کوچھوڑو میں نے خود ہی ان کو اس طرح بات کرنے کا عادی بنایا ہے ۔ دوسری طرف جوزجانی سے یہ بھی منقول ہے کہ جب مجلس میں امام ابو حنیفہ تقریر شروع کرتے تو سب کے سب چپ ہو جاتے تھے ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا کوئی مجلس میں موجود ہی نہیں ۔ حالانکہ اس وقت مجلس میں جید علما حاضر ہوتے اور خود امام محمد نے اس مجلس کا تذکرہ یوں کیا ہے کہ امام ابوحنیفہ کی عادت تھی کہ وہ تلامذہ کے ساتھ مناظرہ کرتے ۔ تلامذہ کبھی توامام صاحب کی بات مان لیتے اور کبھی امام صاحب کے دلائل اور رائے کے مقابلے میں اپنی رائے اور دلیلیں پیش کرتے ۔

عبد اللہ بن نمیر نے اس مجلس کی نقشہ کشی یوں کی ہے :

”امام ابو حنیفہ جب مجلس میں تشریف فرما ہو جاتے تو ان کے ارد گرد ان کے رفقا وتلامذہ بیٹھ جاتے ۔ جن میں قاسم بن معن ، عافیہ بن یزید ، داؤد طائی ،زفر بن ہذیل اور اسی قسم کے اور لوگ ہوتے ۔ اس کے بعد کسی مسئلے کا ذکر چھڑ جاتا ،پہلے امام صاحب کے تلامذہ اپنی اپنی معلومات کے لحاظ سے اس مسئلے پر بحث کرتے اور خوب کھل کر گفتگو کرتے ، یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہو جاتی تھیں ۔ جب باتیں بہت بڑھ جاتیں اور سارے پہلو سامنے آ جاتے تب آخر میں امام صاحب اپنی تقریر شروع کرتے ۔ امام صاحب کی تقریر جس وقت شروع ہو جاتی تو سارے خاموش ہو جاتے اور جب تک امام صاحب تقریر فرماتے کوئی کچھ نہ بولتا ۔ ” (موفق ۲/ ۱۵۰)

حضرت امام ابو حنیفہ کا یہ طریقہ تھا کہ مجلس میں جس وقت بحث و مباحثہ کا سلسلہ شروع ہو جاتا تو بار بار ان کی زبان پر قرآنی آیت و بشر عبادی الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ جاری ہو جاتی یعنی شرکاے مجلس کو اس طرح یہ سمجھایا جاتا کہ ہم اس وقت احسن القول کی تلاش و جستجو میں لگے ہوئے ہیں ۔ چنانچہ آپ اپنے اجتہادی مسائل کے بارے میں اکثر یہ فرمایا کرتے تھے :ھو احسن ما قدرنا علیہ۔ یعنی جہاں تک پہنچنا ہمارے بس میں تھا ،اس میں سے بہتر پہلو مسئلے کا یہی ہے ۔ غرضیکہ امام ابوحنیفہ کی اس مجلس میں اسی طرح آزادانہ بحث و تمحیص ، مناظرہ اور دلائل پیش کرنے کے بعد جو فقہی قوانین طے پائے ایک روایت کے مطابق ان کی تعداد پانچ لاکھ ہے ۔ اور خوارزمی کی ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ تراسی ہزار مسئلے اس مجلس میں طے ہوئے تھے ۔ ان تراسی ہزار دفعات میں سے صرف اڑتیس ہزار مسائل کا تعلق عبادات سے تھا اور باقی پینتالیس ہزار دفعات کا تعلق معاملات سے ہے ۔ ۷؂

اوصاف مجتہد اور عصر حاضر

اجتہاد اپنے اصطلاحی مفہوم کے اعتبار سے کسی معاملہ میں شرعی حکم معلوم کرنے کے لیے انتہائی کوشش کرنے کا نام ہے ۔ ۸؂ علما نے مجتہد کے لیے جن شرائط کو لازمی قرار دیا ہے ، ان میں پہلی شرط یہ ہے کہ وہ قرآن مجید کے لغوی و شرعی مفاہیم اور آیات احکام سے واقف ہو ، نیز قرآن سے متعلق دوسرے علوم جیسے ناسخ و منسوخ ، عام و خاص ، مطلق و مقید اور سبب نزول کی معرفت رکھتا ہو ۔ دوسری شرط یہ ہے کہ اسے سنت نبوی کی پوری معرفت حاصل ہو ۔ احکامی احادیث ، اصطلاحات حدیث اور فن اسماء الرجال پر عبور حاصل ہو ۔ تیسرے اسے ان مسائل کا علم ہو جن پر پہلے سے اجماع ہے ۔ چوتھے عربی زبان و ادب کی تمام نزاکتیں اور جزئیات اسے مستحضر ہوں ۔ پانچویں یہ کہ اصول فقہ کا علم رکھتا ہو۔ دلائل اور ان کے مدلولات کا باہمی رشتہ کیا ہے ، اور دلائل میں تعارض کے وقت ترجیح کے اسباب و وجوہ کیا ہوتے ہیں نیز ناسخ و منسوخ کی شرائط کا علم ہو ۔ اسی طرح قیاس ، اس کی شرائط ، اس کے ارکان اور اقسام سے باخبر ہو اور ان اصول و قواعد کا علم رکھتا ہو جن کی بنا پر مجتہد شرعی احکام کا استنباط کرتا ہے ۔۹؂

مذکورہ بالا شرائط کے بارے میں بعض علما کا خیال ہے کہ موجودہ دور میں کسی ایک شخص کے اندر ان تمام صفات کی موجودگی محال ہے ۔ یہ صحیح ہے کہ مجتہد مطلق کے اندر ان تمام صفات کا موجود ہونا ضروری ہے جس کی بنا پر وہ مقررہ مسالک کے قواعد سے صرف نظر کرتے ہوئے اپنے طے کردہ اصولوں کی بنیاد پر اجتہاد کر سکتا ہو ، لیکن فی زمانہ ایسی قابلیت مفقود ہے ۔ ۱۰؂

مجتہد مطلق کا وجود اب نایاب ہے ، لیکن دوسرے مجتہدین ہر دور میں پائے جاتے رہے ہیں ۔ اس لیے جمہور علما نے اجتہاد کے موضوع پر ایک دوسرے پہلو سے بھی گفتگو کی ہے ، وہ یہ کہ اجتہاد شعبہ جاتی اور جزئی بھی ہو سکتا ہے ۔ یعنی کسی ایک فن یا علم کے کسی ایک شعبہ میں درجۂ اجتہاد کو پہنچنا ۔ اس لیے کہ جزئی اجتہاد کی شرائط سہل اور آسان ہیں جیسا کہ علامہ آمدی کے نزدیک جزئی اجتہاد کے لیے یہی کافی ہے کہ اجتہاد کرنے والا متعلقہ مسئلے سے واقف ہو ، غیر متعلق مسائل سے اس کی ناواقفیت اس کی اس اہلیت پر اثر انداز نہیں ہو گی ۔۱۱؂

امام رازی کے مطابق اگر کوئی شخص اجتہاد کے لیے مشروط علوم میں کمال حاصل کر لے تو یہ اس کی اعلیٰ صورت ہے ، لیکن اگر وہ کسی ایک فن یا مسئلہ میں اجتہاد کی شرائط پوری کر دے تو اس کے لیے اجتہاد جائز ہو گا۔ اگرچہ اس بات پر بعض علما کا اختلاف ہے ۔ ۱۲؂

عصر حاضر میں شورائی اجتہاد کی ضرورت

مجتہد کے لیے ان کڑی شرائط اور جزئی اجتہاد کی گنجایش کے پیش نظر عصر حاضر کے مسائل سے نمٹنے کے لیے قابل عمل راستہ یہی نظر آتا ہے کہ شورائی اجتہاد کی اسی شکل کو آج بھی اختیار کیاجائے جسے امام ابو حنیفہ نے اپنایا تھا۔ آج شورائی اجتہاد کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے ۔ اس لیے کہ عرصۂ دراز تک اجتہاد کا دروازہ بند رہنے کی وجہ سے پہلے تو کوئی اجتہاد کی جرأت ہی نہیں کرتا اور اگر کوئی کر لیتا ہے تو معاشرے میں اس پر اعتماد اور قبولیت کے لیے دلوں میں وسعت نہیں ہے ۔ کسی کو کسی مجتہد کے علم پر اور کسی کو اس کے تقویٰ پر بھروسا نہیں ہے ۔ تقویٰ و للہیت بھی عنقا ہے ، اس لیے شورائی اجتہاد کی صورت میں لوگ ایک ادارے کے اجتماعی فیصلوں پر نسبتاً زیادہ اعتماد کریں گے ۔ یہی ایک راستہ ہے جس کے ذریعے سے اجتہاد کے بارے میں خوف اور جمود کی کیفیت ختم ہو سکتی ہے او رجس میں غلطی کے در آنے کے امکانات بھی کم ہو جائیں گے اور تاریخ فقہ بھی اسی راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے ۔

دوسرے جدید علوم کی کثرت نے نئے نئے سیاسی و معاشرتی مسائل اور وسائل کو جنم دیا ہے جن کی وجہ سے فکری رویوں میں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ۔ ان رویوں میں جہاں شریعت کے لیے خدشات ہیں ، وہاں بہت سے امکانات کے دروازے بھی کھل رہے ہیں ۔ جیسا کہ بارہویں صدی کے عالم امام صنعائی فرماتے ہیں :”حق بات یہ ہے کہ اس زمانے میں اجتہاد گزشتہ زمانے کے مقابلہ میں زیادہ آسان ہے ، البتہ اس کے لیے حوصلہ مندی ، فکر کی سلامتی ، فہم صحیح اور کتاب و سنت کے اندر مہارت جیسی صفات کی ضرورت ہے ۔ ۱۳؂ ‘ ‘

زمانۂ حال میں اجتہاد کی شرائط کو پورا کرنا اس اعتبار سے آسان ہو گیا ہے کہ طباعت کتب اور اشاعت مخطوطات میں آسانی کی وجہ سے ذرائع علم کی فراوانی ہے ۔ مجموعہ ہاے احادیث موجود ہیں جن میں متنوع انداز و اسالیب پر حدیثیں جمع کر دی گئی ہیں جن سے صحیح اور غیر صحیح کی تلاش بھی آسان ہو گئی ہے ۔ اسی طرح احادیث کے اشاریے اور الفاظ اور موضوعاتی اشاریے موجود ہیں ۔ ان سب اسباب و وسائل کی موجودگی کی بنا پر پیش آمدہ مسائل میں راہ عمل کا تعین کرنا آسان ہو گیا ہے ۔ ۱۴؂

فکری و اجتماعی رویوں میں ایک مثبت تبدیلی یہ ہے کہ آج بحث و گفتگو اور مکالمے کے ذریعے سے آزادانہ طور پر رائے قائم کرنے کو پسندیدہ طریقہ گردانا جاتا ہے ۔ فتوے کے انداز میں علمیت کا حاکمانہ اظہار ناپسندیدہ ہوتا جا رہا ہے ، اس اعتبار سے بھی امام ابو حنیفہ مجلس قانون ساز کاانداز جدید ذہن کو اپیل کرتا ہے ۔

دور جدید میں حالات و مسائل اور مصالح عامہ کے تغیر اور کثرت علوم کی وجہ سے اجتہاد کی ضرورت جس قدر بڑھ چکی ہے ۔ کوئی ایک یا چند منفرد مجتہدین الگ الگ اس کو پورا نہیں کر سکتے ، اس لیے کہ منفرد مجتہد کو اصل مسئلہ کی تمام تفصیلات سے آگہی ایک مشکل امر ہے ۔ کسی اجل عظیم کے انتظار کے ہم مکلف نہیں ہیں ، بلکہ بحالت موجودہ وسائل افراد اور دیگر وسائل کے مہیا کرنے کے ہی ہم مکلف ہیں ۔ اس کا راستہ یہی ہے کہ جدید دور میں ادارہ سازی کا جو معروف و مروج طریقہ ہے ، اس کو اختیار کر کے موضوعات کو تقسیم کرتے ہوئے حسب صلاحیت اور حسب دلچسپی افراد کو کام تفویض کیا جائے ۔ بہت سے جدید علوم ایسے ہیں جن کا علم شرط اجتہاد تو نہیں ہے ، لیکن موجودہ زمانے میں بہت سے شرعی معاملات پر وہ علوم اثر انداز ہوتے ہیں ۔ جیسے طب ، اگر زیر اجتہاد قضیہ اس علم سے متعلق ہے تو ایسی صورت میں مجتہد کو طبی ماہرین سے استفادہ کی ضرورت پیش آئے گی اور ان کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر حکم شرعی مرتب ہو گا۔ اس اہمیت کے پیش نظر مختلف شعبہ جات کے ماہر ایسے افراد کی ضرورت بھی ہے جو اگرچہ مجتہدانہ صلاحیتوں کے مالک نہ بھی ہوں ، مگر تقویٰ اور فقہ کے بنیادی اصولوں سے آگاہ ہوں تا کہ ان کے شعبے کے متعلق مجتہد کی آرا پر وہ بھی تنقیدی و تائیدی بحث کر سکیں ۔ ایسا تبھی ممکن ہے جب شورائی اجتہاد کے لیے کوئی ادارہ وجود میں آئے ۔ چنانچہ عصر حاضر کے مفکر و مدبر قرآن مولانا امین احسن اصلاحی اس پہلو کے پیش نظر اجتماعی اجتہاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرماتے ہیں :

”اس طرح کے مسائل پر انفرادی طور پر جو رائیں ظاہر کی جا رہی ہیں ، خواہ علماے دین کی طرف سے یا غیر علماے دین کی طرف سے ، ان سے ایک ذہنی انتشار پیدا ہونے کا اندیشہ ہے ۔ اس طرح کے مسائل پر صحیح رائے قائم کرنے کے لیے مذہب کے گہرے مطالعے کی بھی ضرورت ہے اور ان سوالات کو بھی اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے جو فی الواقع سائنس کی ترقیوں نے پیدا کر دیے ہیں ۔ اس وجہ سے علما اور غیر علما ، دونوں ہی گروہوں کے لیے ہمارا ناچیز مشورہ یہ ہے کہ اس طرح کے مسائل پر اپنے اپنے طورپر اظہار رائے کے بجائے اجتماعی طور پر غور کرنے اور رائے قائم کرنے کی کوئی شکل اختیار کریں تاکہ وہ معاشرے کو صحیح رہنمائی دے سکیں ۔ ” (اسلامی قانون کی تدوین ،۱۱۱۔۱۱۲)

مجمع البحوث الاسلامیہ کی پہلی کانفرنس منعقد۱۳۸۳ ھ قاہرہ میں منظور کردہ قرارداد میں بھی پیش آمدہ مسائل کے شرعی حل کے کے لیے اجتماعی اجتہاد کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا اور کہا گیا :

”اگر فقہی مذاہب کے احکام ایسے ہوں جن سے مقصد پورا نہ ہوتا ہو تو مسلکی اجتماعی اجتہاد ہو گا اور اس سے بھی اگر یہ مقصد پورا نہ ہو تو مطلق اجتماعی اجتہاد کیا جائے گا۔ اور حتی المقدوریہ مجمع ان وسائل کی فراہمی کا انتظام کرے گا جن سے اس طرح کے اجتماعی اجتہادات کی راہ ہموار ہو سکے ۔ ” ( الموتر الاول لجمع ۱۰۔۱۱)

علامہ شیخ احمد شاکر نے مصر کے ماہرین قانون کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :

”تقلید محض کی میں پوری طرح مخالفت کرتا ہوں ، خواہ متقدمین کی تقلید ہو یا متاخرین کی ۔ ایسے ہی انفرادی اجتہاد بھی وضع قانون کے لیے مفید نہیں ہے ، بلکہ فردِ واحد کے تعلق سے یہ محال ہے جس چیز کی طرف میں دعوت دے رہا ہوں ، وہ اجتماعی و شورائی اجتہاد ہے اور یہی چیز مفید ہے ،کیونکہ جب مختلف آرا کا باہم تبادلہ ہو گا تو ان شاء اللہ صحیح بات نکل آئے گی ۔ ”( الشرع واللغۃ ۸۹)

ڈاکٹر محمد یوسف موسیٰ فرماتے ہیں :

”کسی فرد واحد یا متعدد افراد سے جو مختلف موضوعات پر اپنے طور پر کام کر رہے ہوں یہ کام انجام نہیں پا سکتا۔ لہٰذا ایک ایسی اکیڈمی کی ضرورت ہے جو ہر سا ل پیش آمدہ مسائل پر علما کو دعوت تحقیق دے اور ہر موضوع کا اپنے موضوع کے اعتبار سے اس کی تفصیلات کا مطالعہ کرے ۔ پھر اجتماعی طور پر ہر سال مذاکرہ ہو جس میں ہر فرد اپنے نتائج تحقیق پیش کرے ۔ پھر اجتماعی قرار داد منظور کی جائے اور اس کی بنیاد پر شرعی حکم کا نفاذ ہو ۔ جس پر عمل کرنا مسلمانوں کے لیے ضروری ہو۔ میرے نزدیک اسی عمل کا نام اجماع ہے ۔ ” (الاسلام والحیاۃ ۱۸۷)

اسی طرح شیخ عبدالوہاب خلاف، شیخ محمود شلتوت ، شیخ مصطفی الزرقا اور شیخ محمد طاہر بن عاشورہ نے بھی اجتماعی اجتہاد کی ضرورت کا احساس اجاگر کیا ہے ۔

شورائی اجتہاد کی افادیت

صریح اجماع ایک امر محال ہے ۔ اس صورت میں صرف اجتماعی اجتہاد ہی فقہ اسلامی کی حیات اور اس کے فروغ و ارتقا کا ضامن بن سکتا ہے ۔ اور اسی کے ذریعے سے عصری مشکلات ومسائل کا ایسا حل ڈھونڈا جا سکتا ہے جس میں شک و شبہ کا امکان بہت کم رہ جائے ۔ اس لحاظ سے شورائی اجتہاد کی بڑی افادیت ہے ۔ چند حسب ذیل ہیں :

۱۔ انفرادی اجتہاد کے مقابلے میں شورائی اجتہاد کا فیصلہ حق سے زیادہ قریب ہوتا ہے ، کیونکہ ہر بات تفصیلی بحث و تحقیق کے ذریعے سے طے پاتی ہے ، جس میں ہر مسئلے کے تمام اطراف وجوانب پر کافی غور ہوتا ہے ۔ جبکہ منفرد مجتہد کو اگر ایک رخ معلوم ہو گا تو اس کا دوسرا پہلو اس پر مخفی بھی ہو سکتا ہے ۔ ا س لیے زیادہ امکان ہے کہ وہ کسی ناقص فیصلہ پر پہنچ جائے ۔

۲۔ انفرادی اجتہاد میں ذاتی مفاد کے حصول اور دوسروں کی خواہشات کی پیروی کا امکان رہتا ہے ، جبکہ اجتماعی اجتہاد کی بدولت دین فروشوں اور اہل ہوس کو جھوٹے فتووں کے ذریعے سے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا موقع نہیں مل سکتا ۔

۳۔ شورائی اجتہاد میں چونکہ باہمی مشاورت کے ذریعے سے کسی مسئلے کے شرعی حل تک پہنچا جاتا ہے ، اس لیے اس میں ہر مکتب فکر کے دلائل ایک دوسرے کے سامنے آ جاتے ہیں ، اس وجہ سے علما کے اختلاف کی شدت میں کمی آ سکتی ہے اور بہت سی عوامی غلط فہمیوں اور مسلکی تعصبات کاازالہ ہو سکتا ہے ۔

۴۔ اس کے نتیجے میں راہ اعتدال کو اختیار کرنے والے نئے مجتہدین کی بڑی کھیپ تیار ہو سکتی ہے ۔

۵۔ جدید علوم کے ماہرین پر بھی حکمت دین آشکار ہوتی ہے ۔

مندرجہ بالا تفصیل و توضیح سے یہ بات واضح ہوئی کہ اگر ہم پیش آمدہ مسائل ومشکلات سے عہدہ برآ ہونے اور زندگی کی اسلامی نقشہ گری کے لیے اجتہاد کو ناگزیر سمجھتے ہیں اور اس کے ساتھ ایک ایسا حل شرعی طریقے پر معلوم کرنا چاہتے ہیں جس میں تحقیق و تدقیق کی گہرائی بھی ہو اور دلیل و برہان کی پختگی بھی ، جو ہر قسم کے شکوک و شبہات اور طعن سے محفوظ بھی ہو اور جس کو رائے عامہ پورے اعتماد و یقین کے ساتھ قبول بھی کرے ، نیز اس کی تنفیذ و اجرا میں کوئی دشواری بھی پیش نہ آئے تو پھر اس کے لیے انفرادی اجتہاد کی بجائے شورائی و اجتماعی اجتہاد کا طریقہ اپنانا ہو گا ۔ یہ فتنہ و انتشار سے بچنے کا محفوظ راستہ بھی ہے اور دورِ جدید کا تقاضا بھی۔ یہ طریقہ سلف سے ہم آہنگ بھی ہے اور وقت کی ضرورت بھی۔

____________

۱؂ تاریخ التشریع الاسلامی ۱۲۸۔

۲؂ حاشیہ مسند احمد ۲/ ۱۶۶۔

۳؂ ابن عبد البر، جامع بیان العلم و فضلہ ۲/ ۵۶۔ ابن قیم ،اعلام الموقعین ۲ /۱۳۲۔

۴؂ امام الحرمین الجوینی ، غیاث الامم فی التیاث الظلم ۴۳۱۔

۵؂ اصول التشریع الاسلامی ، علی حسب اللہ ۱۴۸۔

۶؂ علم اصول فقہ، شیخ عبد الوہاب خلاف ۵۰۔

۷؂ سید مفتی سیاح الدین کاکا خیل، اسلامی قانون کی تدوین ،سہ ماہی ”فکر و نظر” اکتوبر ۱۹۸۱،ج۱۹، شمارہ ۴ ، ص ۵۴۔

۸؂ المستصفیٰ، امام غزالی ۲/۳۵۰۔

۹؂ المستصفٰی، امام غزالی ۲۔۳۵۰۔۳۵۲۔ الاعتصام ، الشاطبی ، ابواسحاق۲/ ۲۹۷۔ التلویح علی التوضیح ، تفتازانی ، سعد الدین ۲/ ۱۷۷۔ اصول السرخسی، السرخسی ، احمد بن ابی سہیل ۱/ ۳۱۰۔

۱۰؂ الرد علی من اخلا الی الارض ، السیوطی ۱۱۳۔

۱۱؂ الاحکام فی اصول الاحکام ، الآمدی ۲/ ۲۲۱۔

۱۲؂ المحصول تحقیق طہ جابر علوانی ، رازی ۲/ ۳۶۔

۱۳؂ ارشاد النقاد الی تیسرا لجہاد ، الصنعانی ۱/ ۱۱۔۱۲۔

۱۴؂ معالم الشریعۃ الاسلامیہ ، صبحی صالح ۳۴۔
 

http://www.al-mawrid.org/index.php/articles_urdu/view/shoraai-ijtihaad