نجات میں ایمان بالرسول کی حیثیت

 :سوال

سورہ مائدہ کی آیت ٦٩ میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ جو لوگ ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کے ساتھ، عمل صالح کو اختیار کریں گے، ان کی بخشش ہو جائے گی، اس آیت سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ انسان کی نجات میں ایمان بالرسول کی کوئی حیثیت نہیں، کیا یہ بات صحیح ہے؟

:جواب

سورہ مائدہ کی آیت درج ذیل ہے:

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ هَادُوْا وَالصّٰبِئُوْنَ وَالنَّصٰرٰی مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وعَمِلَ صَالِحًا فَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُوْنَ.(المائده٥:٦٩)

”(جزا و سزا کا قانون بالکل بے لاگ ہے، لہٰذا) وہ لوگ جو (اِس نبی امی پر) ایمان لائے ہیںاور جو (اِن سے پہلے) یہودی ہوئے اور صابی اور نصاریٰ ،اُن میں سے جن لوگوں نے بھی اللہ کو مانا ہے اور قیامت کے دن کو مانا ہے اور نیک عمل کیے ہیں تو اُن کے لیے (اللہ کے حضور میں) کوئی اندیشہ ہو گا اور نہ وہ کوئی غم (وہاں) کھائیں گے۔”

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ آخرت میں کامیابی محض اس بات سے نہیں ہو جائے گی کہ فلاں آدمی مسلمان تھا، یہودی، صابی یا عیسائی تھا، یعنی کسی گروہ میں شمولیت سے نجات نہیں ہو جائے گی، بلکہ اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ آدمی ایمان باللہ، ایمان بالآخرت کا حامل ہو اور اعمال صالحہ کو اختیار کرے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا کوئی چیز نہیں اور آدمی خواہ ان کا اقرار کرے ،خواہ انکار، خواہ ان سے بے نیازی اختیار کرے، اس سے اس کی بخشش میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نہیں، ہرگز نہیں، صحیح بات یہ ہے کہ جس آدمی نے جان بوجھ کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی تو اسے ہدایت پر سمجھا ہی نہیں جائے گا اور اس کا ایمان باللہ، ایمان بالآخرت اور اعمال صالحہ سب رائگاں جائیں گے ۔ ارشاد باری ہے:

وَقَالُوْا کُوْنُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی تَهْتَدُوْا قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرٰهيمَ حَنِيْفًا وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِيْنَ. قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَمَآ اُنْزِلَ اِلٰۤی اِبْرٰهيمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی وَعِيْسٰی وَمَآ اُوْتِیَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ لاَ نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَه، مُسْلِمُوْنَ فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِه فَقَدِ اهْتَدَوْا وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا هُمْ فِیْ شِقَاقٍ فَسَيَکْفِيْکَهُمُ اللّٰهُ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ.(البقرة٢: ١٣٥- ١٣٧)

”اور اِن کا اصرار ہے کہ یہودی یا نصرانی بنو تو ہدایت پاؤ گے۔ اِن سے کہہ دو : بلکہ ابراہیم کا دین اختیار کرو جو (اپنے پروردگار کے لیے) بالکل یک سو تھا اور مشرکوں میں سے نہیں تھا ۔ اِن سے کہہ دو : ہم نے اللہ کو مانا ہے اور اُس چیز کو مانا ہے جو ہماری طرف نازل کی گئی اور جو ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحق اور یعقوب اور اُن کی اولاد کی طرف نازل کی گئی اور جو موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے سب نبیوں کو اُن کے پروردگار کی طرف سے دی گئی ۔ ہم اِن میں کوئی فرق نہیں کرتے۔ (یہ سب اللہ کے پیغمبر ہیں) اور ہم اُسی کے فرماں بردار ہیں۔ پھر اگر وہ اُس طرح مانیں ،جس طرح تم نے مانا ہے تو راہ یاب ہوئے اور اگر منہ پھیر لیں تو وہی ضد پر ہیں ۔ سو اِن کے مقابلے میں اللہ تمھارے لیے کافی ہے ، اور وہ سننے والا ہے ، ہر چیز سے واقف ہے۔”

اس آیت میں واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ یہود و نصاریٰ اگر مسلمانوں کی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں گے تبھی راہ یاب ہوں گے، ورنہ نہیں۔

لہٰذا، سورہ مائدہ کی آیت ٦٩سے یہ معنی لینے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے کہ ایمان بالرسالت ایک غیرضروری چیز ہے۔ کسی بھی نبی کے دور میں اس پر ایمان سے محرومی، کسی صریح عذر ہی کی بنا پر قابل معافی ہو سکتی ہے۔

آج نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایمان لانا پوری دنیا کے لیے ایک انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے، کیونکہ ارشاد باری ہے:

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِه لِيَکُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرًا.(الفرقان٢٥:١)

”بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر حق و باطل کے درمیان امتیاز کر دینے والی کتاب اتاری تاکہ وہ جہان والوں کے لیے خبردار کرنے والا بنے۔”

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود، آپ کی لائی ہوئی کتاب اور آپ کی برپا کی ہوئی دینونت، اب پوری دنیا کے لیے آپ کی جانب سے بالفعل حجت بن چکی ہے۔ بس اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے اب انسانوں کی طرف سے ہونے والی جد و جہد ہی باقی ہے اور وہ ظاہر ہے کہ انھی کے ذمے ہے، لہٰذا آپ پر ایمان لانے سے انسان کی محرومی کسی عذر ہی کی بنا پر معاف ہو گی۔

Rafi Mufti